سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-562 Fatwa no: 1448-562

آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنے سہو کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
ا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز آنکھیں بند کر کے پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :

آنکھیں بند کر کے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے،البتہ اگر اس کے بغیر نماز میں خشوع حاصل نہ ہوتا ہو،توخشوع حاصل کرنے کے لیے آنکھیں بند کر کے نماز پڑھناجائز ہے،تاہم آنکھیں کھلی رکھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے؛کیونکہ قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ کو دیکھنا مسنون ہے اور آنکھیں بند کرنے کی صورت میں  اس سنت کو چھوڑنالازم آتا ہے۔
تفسيرابن كثير:
{قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ. الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ} خَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ إِلَى مَوْضِعِ سُجُودِهِمْ.وَ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: لَا يُجَاوِزُ بَصَرُهُ مُصَلاه، فَإِنْ كَانَ قَدِ اعْتَادَ النَّظَرَ فَلْيُغْمِضْ.
(المومنون،۴۶۱/۱،دار طيبة)
المصنف ابن ابي شيبة:
6504 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، «أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ، وَهُوَ مُغْمِضُ الْعَيْنِ»
(تغميض العين،۶۴/۲، مكتبة الرشد)
الدرالمختار:
(وتغميض عينيه) للنهي إلا لكمال الخشوع.... (قوله إلا لكمال الخشوع) بأن خاف فوت الخشوع بسبب رؤية ما يفرق الخاطر فلا يكره، بل قال بعض العلماء إنه الأولى
(مايفسد الصلاة،۶۴۵/۱،دارالفکر)
البحرالرائق:
(وتغميض عينيه) لما رواه ابن عدي عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام أحدكم في الصلاة فلا يغمض عينيه.... وعلله في البدائع بأن السنة أن يرمي بصره إلى موضع سجوده وفي التغميض ترك هذه السنة.. وينبغي أن تكون الكراهة تنزيهية إذا كالغير ضرورة ولا مصلحة، أما لو خاف فوات خشوع بسبب رؤية ما يفرق الخاطر فلا يكره غمضهما بسبب ذلك بل ربما يكون أولى لانه حينئذ لكمال الخشوع
(مايفسد الصلاة،۴۵/۲،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 30 Jul 2026