نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںطلاق كو ثابت كرنے كے ليے طلاق دینے والے کا اقرار یا دو عادل مردیا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے صورت مسئولہ میں چونکہ شوہر طلاق سے انکار کررہا ہے ؛ اس لیے اگر اس کے سسر کے پاس گواہ موجود ہیں تو ان کا قول معتبر ہو گا اور اس کی بیٹی کو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر شرعی گواہ نہ ہو ں تو محض سسرال والوں کے کہنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی،بلکہ شوہر کا دینا ضروری ہے اور وہ بدستور آپ کی بیوی ہے۔
کما في القرآن المجيد:
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ
(البقرة،آية:282،پاره:1،)
وفي الدر المختار:
(وَ) نِصَابُهَا (لِغَيْرِهَا مِنْ الْحُقُوقِ سَوَاءٌ كَانَ) الْحَقُّ (مَالًا أَوْ غَيْرَهُ كَنِكَاحٍ وَطَلَاقٍ(رَجُلَانِ) أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ
(كتاب الشهادت،ص:465،ج:5،ط:دارالفكر)
وفي شرح الطحاوی:
مسألة: [ألفاظ صريح الطلاق]
قال أبو جعفر: (ومن قال لزوجته وقد دخل بها: أنت طالق، أو: أنت واحدة، أو: اعتدي، أو: استبرئي رحمك،
مسألة: [ألفاظ الطلاق البائن]
قال أبو جعفر: (ومن قال لزوجته: أنت خلية، أو: برية، أو: بائن، أو: بتة، أو: حرام، أو: اعتدي، أو: أمرك بيدك، أو: اختاري، فقالت قد اخترت نفسي، فقال الزوج: لم أرد بذلك
طلاقًا، فإن كان في ذكر طلاق: لم يقبل قوله، وكان ذلك طلاقًا بائنًا، غير اعتدي: فإنه رجعي".
( باب صريح الطلاق،ص:51،ج:5،ط: دار البشائر الإسلامية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 30 Jul 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔