سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-563 Fatwa no: 1448-563

شوہر کے انکار کی صورت میں زبانی طلاق کے دعوے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبا رے میں کہ میں مسمی افکار احمد ولد عدالت خان قوم گجر میری بیوی شیم ولد غلام غوث قوم گجر جو کہ گھریلو ناچاکی کی وجہ سے عرصہ ڈیڑھ سال سے ناراض ہو کر میکے گئی ہوئی ہے ابھی اس کو منانے کے لیے گیا ہوں تو غلام غوث(سسر) کہتا ہے کہ آپ نے میری بیٹی کو زبانی طلاق دی ہے ، جبکہ میں حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اور نہ ہی کوئی اس طرح کی بات ہوئی ہے ،ابھی غلام غوث (سسر)کہتا ہے کہ فتوی لے آئیں میں بیٹی کو بھیج دیتا ہوں برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں ؟
جواب :

طلاق كو ثابت كرنے كے ليے طلاق دینے والے کا اقرار یا دو عادل مردیا ایک  مرد اور دو عورتوں  کی  گواہی ضروری ہے صورت مسئولہ میں   چونکہ شوہر  طلاق  سے انکار کررہا ہے ؛ اس لیے  اگر اس  کے  سسر کے پاس  گواہ موجود ہیں تو ان کا  قول معتبر ہو گا اور  اس کی بیٹی کو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر  شرعی گواہ نہ ہو ں تو   محض سسرال والوں  کے کہنے سے طلاق واقع نہیں ہو گی،بلکہ شوہر  کا دینا ضروری ہے  اور وہ بدستور آپ کی بیوی ہے۔
 کما في القرآن المجيد:
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ
(البقرة،آية:282،پاره:1،)
وفي الدر المختار:
(وَ) نِصَابُهَا (لِغَيْرِهَا مِنْ الْحُقُوقِ سَوَاءٌ كَانَ) الْحَقُّ (مَالًا أَوْ غَيْرَهُ كَنِكَاحٍ وَطَلَاقٍ(رَجُلَانِ) أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ
(كتاب الشهادت،ص:465،ج:5،ط:دارالفكر)
وفي شرح الطحاوی:
مسألة: [ألفاظ صريح الطلاق]
قال أبو جعفر: (ومن قال لزوجته وقد دخل بها: أنت طالق، أو: أنت واحدة، أو: اعتدي، أو: استبرئي رحمك، 
مسألة: [ألفاظ الطلاق البائن]
قال أبو جعفر: (ومن قال لزوجته: أنت خلية، أو: برية، أو: بائن، أو: بتة، أو: حرام، أو: اعتدي، أو: أمرك بيدك، أو: اختاري، فقالت قد اخترت نفسي، فقال الزوج: لم أرد بذلك 

طلاقًا، فإن كان في ذكر طلاق: لم يقبل قوله، وكان ذلك طلاقًا بائنًا، غير اعتدي: فإنه رجعي".
( باب صريح الطلاق،ص:51،ج:5،ط: دار البشائر الإسلامية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 30 Jul 2026