سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-57 Fatwa no: 1447-57

بائع کا ثمن وصول کرنے کے بعد مبیع واپس خریدنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
عمر نے 15 لاکھ کی گاڑی خریدی اور آگے 15 ہزار ماہانہ رینٹ پردیدی،کچھ عرصہ کے بعد عمر کو پیسوں کی ضرورت پڑی،تو اس نے خالد سے کہا کہ تم مجھے دس لاکھ روپے دیدو اور گاڑی کے دو حصے مجھ سے خریدلے اور ماہانہ کرایہ جو آئے گا تو اس میں ہم دونوں اس طور پر شریک ہونگےکہ نفع کے دو حصے یعنی دس ہزار روپے آپ کے ہونگے اور ایک حصہ یعنی پانچ ہزار میرے ہوں گے،تو خالد نے عمر کو دس لاکھ روپے حوالہ کرکے  گاڑی کے دو حصے خرید لئے،اب کچھ عرصہ بعد عمر خالد سے گاڑی کے وہ دو حصے واپس لینا چاہتا ہے ،لیکن گاڑی کی قیمت اب 15 لاکھ کے بجائے 18 لاکھ ہوچکی ہے ،تو پوچھنا یہ ہے کہ آیا اب عمر خالد سے 15 لاکھ کے حساب سے گاڑی واپس لےگا یا 18 لاکھ کے حساب سے؟ مکمل رہنمائی فرمادیں۔

جواب :

صورت مسئولہ میں خالدکو اختیار ہے کہ وہ گاڑی میں اپنے دو حصے عمر کو جتنی بھی قیمت ( خریدی ہوئی قیمت  یا اس سے زیادہ قیمت ) پرفروخت کرنا چاہے،تو فروخت کرسکتا ہے۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول...... (ولا بد) لعدم الجواز (من اتحاد جنس الثمن) وكون المبيع بحاله (فإن اختلف) جنس الثمن أو تعيب المبيع (جاز مطلقا)كما لو شراه بأزيد أو بعد النقد.
(قوله بأزيد أو بعد النقد) ومثل الأزيد المساوي كما في الزيلعي، وهذا قول المصنف بالأقل قبل نقد الثمن.
(كتاب البيوع،ج5،ص73،ط:دارالفكر)
وفى العناية:
وحاصل ذلك أن شراء ما باع لا يخلو من أوجه: إما أن يكون من المشتري بلا واسطة أو بواسطة شخص آخر. والثاني جائز بالاتفاق مطلقا: أعني سواء اشترى بالثمن الأول أو بأنقص أو بأكثر أو بالعرض. والأول إما أن يكون بأقل أو بغيره، والثاني بأقسامه جائز بالاتفاق.
(كتاب البيوع،ج6،ص433،ط:دارالفكر)
وفى المحيط البرهاني:
يجب أن يعلم أن شراء ما باع الرجل بنفسه أو بيع له بأن باع وكيله بأقل مما باع ممن باع أو ممن قام مقام البائع كالوارث قبل نقد الثمن لا يجوز..... بخلاف ما بعد قبض الثمن؛ لأن هناك العقد الثاني أوجب تأكيد الثمن الأول؛ لأن الثمن الأول صار موكدا بالقبض، ولم يبق له عرضية السقوط قبل العقد الثاني، فلم يكن تأكيدا له.
(كتاب البيوع،ج6،ص385،ط:دارالكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب