نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ قرض پر کسی قسم کا نفع لینا جائز نہیں ہے جبکہ ہم ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے رکھتےہیں جو کہ قرض ہوتا ہے اس سے اپنا بجلی وغیرہ کا بل ادا کرتے ہیں یہ بھی تو ایک سہولت ہےآیا کیا یہ بھی قر ض پر نفع لینے میں شامل ہو گا یانہیں؟
اگرقرض كے عقدمیں كسی نفع کی شرط لگائی گئی ہو تو وہ نفع لینا سوداور حرام ہے اور اگر شرط نہ لگائی ہو تو نفع لینا بطور ہبہ یا انعام کے جائز ہے،لہذا صورت مسئولہ میں ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں قرض کےطور پر پیسے رکھنے سے پہلے ہی بجلی کے بل جمع کروانے کی سہولت اور دوسری سہولیات وغیرہ صرف اکاؤنٹ بناتے ہی مل جاتی ہیں اس لیے اس صورت میں پیسے رکھنے کے بعد اس سہولت کا استعمال کرنا جائز ہے ،البتہ وہ سہولیات جو اکاؤنٹ میں ایک محدود رقم رکھنے کے ساتھ مشروط ہوں ،جیسے:فری منٹ وغیرہ، ایسی سہولت کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
الدرالمختار:
( في حكم القرض ) . المسألة الثامنة - يملك المستقرض المقروض عند الطرفين بالقبض أو بقبض وكيله بالقبض أو بقبض رسوله أي بنفس القبض ولو لم يستهلكه المستقرض لأن القبض يفيد العين في الحال حيث بالإقراض والتسليم يخرج المقروض من ملك المقرض ويدخل في ملك المستقرض , ويثبت في ذمته للمقرض مثل المقروض للمقرض . فلذلك إذا أقرض أحد آخر خمسين كيلة حنطة وسلمها له وطلب المقرض من المستقرض قبل أن يستهلك الحنطة المذكورة رد الحنطة المذكورة عينا فللمستقرض أن يبقي الحنطة المذكورة , وأن يسلمه مثلها وليس للمقرض أن يقول : إنني أطلب ردها عينا.
(حكم القرض ،ص:84،ج:3،ط:دارالفكر)
فتاوي الهندية:
إن أبا حنيفة رحمه الله تعالى كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به
(القرض والمستقرض،ص:202،ج:3،ط:دارالفكر)
الفقه الإسلامي:
حكم القرض: يثبت الملك في القرض عند أبي حنيفة ومحمد بالقبض، فلو اقترض إنسان مدّ حنطة وقبضه، فله الاحتفاظ به، ورد مثله وإن طلب المقرض رد العين، لأنه خرج عن ملك المقرض، وثبت له في ذمة المقترض مثله لا عينه، ولو كان قائماً.
القرض الذي جرّ منفعة: قال الحنفية في الراجح عندهم: كل قرض جر نفعاً حرام إذا كان مشروطاً، فإن لم يكن النفع مشروطاً أو متعارفاً عليه في القرض، فلا بأس به۔۔۔وكذلك حكم الهدية للمقرض: إن كانت بشرط كره أي تحريماً، وإلا فلا.
(حكم القرض،ص:513،515،ج:4،ط:رشيدية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 08 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔