نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمتعدد مجالس میں ایک ہی آیت سجدہ تلاوت کرنے سے متعدد سجدے لازم ہوتے ہیں ،لہذا اگر کوئی آدمی تلاوت کر رہا تھا اس نے دوران تلاوت آیت سجدہ پڑھ لی پھر وہ وضو ءٹوٹ جانے کے بعد دوبارہ وضو کے لیے گیاتو پہلی مجلس ختم ہو گئی،وضوء کرنے کے بعد اس نے وہی آیت دوبارہ نماز میں تلاوت کر دی اور نماز میں سجدہ بھی کر لیاتو یہ دوسری مجلس شمار ہوگی،نماز والا سجدہ پہلےوالے سجدے کے لیے کافی نہ ہوگا ،نماز سے پہلے والی تلاوت کا الگ سے سجدہ کرنا لازم ہو گا۔
الدرالمختار:
(ولو كررها في مجلسين تكررت).. (قوله ولو كررها في مجلسين تكررت) الأصل أنه لا يتكرر الوجوب إلا بأحد أمور ثلاثة: اختلاف التلاوة أو السماع أو المجلس.. وأما الأخير فهو قسمان: حقيقي بالانتقال منه إلى آخر بأكثر من خطوتين كما في كثير من الكتب، أو بأكثر من ثلاث كما في المحيط ما لم يكن للمكانين حكم الواحد، كالمسجد والبيت والسفينة ولو جارية، والصحراء بالنسبة للتالي في الصلاة راكبا. وحكمي وذلك بمباشرة عمل يعد في العرف قطعا لما قبله كما لو تلا ثم أكل كثيرا
(سجود التلاوة،۱۱۴/۲،دارالفکر)
بدائع الصنائع:
تَلَا آيَةَ السَّجْدَةِ ثُمَّ أَكَلَ أَوْ نَامَ مُضْطَجِعًا، أَوْ أَرْضَعَتْ صَبِيًّا، أَوْ أَخَذَ فِي بَيْعٍ أَوْ شِرَاءٍ أَوْ نِكَاحٍ أَوْ عَمَلٍ يَعْرِفُ أَنَّهُ قَطْعٌ لِمَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ ثُمَّ أَعَادَهَا فَعَلَيْهِ سَجْدَةٌ أُخْرَى؛ لِأَنَّ الْمَجْلِسَ يَتَبَدَّلُ بِهَذِهِ الْأَعْمَالِ.
(وجوب سجدة التلاوة،۱۸۳/۱،دار الکتب العلمية)
الفقه الاسلامي:
قال الحنفية... أما إن كرر آية السجدة في عدة أماكن، أي اختلف المجلس، فيجب تكرار السجود.
(هل تتكرر السجدة،۱۱۳۹/۲،دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 08 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔