سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-565 Fatwa no: 1448-565

ایک سجدہ تلاوت والی آیت کا متعدد مجالس میں پڑھنےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی تلاوت کر رہا تھا اس نے دوران تلاوت آیت سجدہ پڑھ لی پھر اس کا وضو ءٹوٹ گیا وضوء کرنے کے بعد اس نے وہی آیت دوبارہ نماز میں تلاوت کر دی اور نماز میں اس کے لیے سجدہ بھی کیا توکیا نماز والا سجدہ پہلے والے سجدے کے لیے بھی کافی ہے یا پہلی والی(نماز سے خارج) تلاوت کے لیے اب دوبارہ الگ سے سجدہ تلاوت ادا کرے گا؟
جواب :

متعدد مجالس میں  ایک ہی آیت سجدہ تلاوت کرنے سے متعدد سجدے لازم ہوتے ہیں ،لہذا اگر کوئی آدمی تلاوت کر رہا تھا اس نے دوران تلاوت آیت سجدہ پڑھ لی پھر  وہ وضو ءٹوٹ جانے کے بعد  دوبارہ وضو کے لیے گیاتو پہلی مجلس ختم ہو گئی،وضوء کرنے کے بعد اس نے وہی آیت دوبارہ  نماز میں تلاوت کر دی اور نماز  میں سجدہ بھی کر لیاتو یہ دوسری مجلس شمار ہوگی،نماز والا سجدہ پہلےوالے  سجدے کے لیے کافی نہ ہوگا ،نماز سے پہلے  والی تلاوت کا الگ سے سجدہ کرنا لازم ہو گا۔
الدرالمختار:
(ولو كررها في مجلسين تكررت).. (قوله ولو كررها في مجلسين تكررت) الأصل أنه لا يتكرر الوجوب إلا بأحد أمور ثلاثة: اختلاف التلاوة أو السماع أو المجلس.. وأما الأخير فهو قسمان: حقيقي بالانتقال منه إلى آخر بأكثر من خطوتين كما في كثير من الكتب، أو بأكثر من ثلاث كما في المحيط ما لم يكن للمكانين حكم الواحد، كالمسجد والبيت والسفينة ولو جارية، والصحراء بالنسبة للتالي في الصلاة راكبا. وحكمي وذلك بمباشرة عمل يعد في العرف قطعا لما قبله كما لو تلا ثم أكل كثيرا
(سجود التلاوة،۱۱۴/۲،دارالفکر)
بدائع الصنائع:
تَلَا آيَةَ السَّجْدَةِ ثُمَّ أَكَلَ أَوْ نَامَ مُضْطَجِعًا، أَوْ أَرْضَعَتْ صَبِيًّا، أَوْ أَخَذَ فِي بَيْعٍ أَوْ شِرَاءٍ أَوْ نِكَاحٍ أَوْ عَمَلٍ يَعْرِفُ أَنَّهُ قَطْعٌ لِمَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ ثُمَّ أَعَادَهَا فَعَلَيْهِ سَجْدَةٌ أُخْرَى؛ لِأَنَّ الْمَجْلِسَ يَتَبَدَّلُ بِهَذِهِ الْأَعْمَالِ.
(وجوب سجدة التلاوة،۱۸۳/۱،دار الکتب العلمية)
الفقه الاسلامي:
قال الحنفية... أما إن كرر آية السجدة في عدة أماكن، أي اختلف المجلس، فيجب تكرار السجود.
(هل تتكرر السجدة،۱۱۳۹/۲،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 08 Aug 2026