سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-566 Fatwa no: 1448-566

بیٹیوں کو محروم کرکے بیٹوں میں جائیداد تقسیم کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں اس شخص (والد) نے اپنے کل مال کو صحت کی حالت میں اپنے بیٹوں کے مابین برابر تقسیم کر دیا اور مالکانہ تصرف بھی دے دیا اور بیٹیوں کو محروم کر دیا ، تقسیم کے وقت بیٹوں میں سے ایک بیٹے کا حصہ بیس لاکھ روپے نقد اور اس کے ساتھ پانچ مرلہ کا ایک پلاٹ تھا جس کی قیمت اس وقت سترہ لاکھ تھی ، تقسيم كے بعد اب ایک بهائی کہتا ہے کہ میں اپنے حصے میں بہنوں کو حصہ دینا چاہتا ہوں ،جبکہ اس بیٹے نے نقد مال میں تجارت کر کے اس نقد مال کو بیس لاکھ سے ساٹھ لاکھ تک پہنچا دیا ہے اوراسی طرح پلاٹ کی قیمت بھی اب ساٹھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا بیٹیوں کا اپنے باپ کے مال میں حق ہے یا نہیں اگر ہے تو کس ترتیب پر تقسیم ہو گی ،نیز یہ کہ تقسیم کے وقت جو مال تھا اس کا اعتبار ہو گا یا جو مال اب اضافہ کے ساتھ موجود ہے اس کا اعتبار ہو گا؟
جواب :

 واضح رہے کہ والد اگر زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہو  تو اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ  اپنے تمام بیٹے  اور بیٹیوں کے درمیان برابر  طور پر جائیداد تقسیم کرے  اگر ایسا نہ کرسکے تو کم از کم  شرعی اعتبار سے ہر ایک کے حصے کے مطابق تقسیم کردے،البتہ اگر کسی وارث کو محروم کرنے کی غرض سے  جائیداد تقسیم کردی  تو اگرچہ  اس کی طرف سے تقسیم نافذ ہو جائے گی ،لیکن اس کی وجہ سے والد گناہگار ہو گا،لہذا صورت مسئولہ میں  چونکہ ساری جائیداد  کو والد نے اپنی ملکیت سے نکال کر   بیٹوں  میں برابر تقسیم کردیا تھا  اور ان کو مالکانہ تصرف بھی دے دیا تھا جس سے ان کی ملکیت ثابت ہو گئی تھی   اس لیے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی اور بیٹیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا  ؛کیو نکہ تمام جائیداد والد کی  ملکیت تھی  اور مالک کواپنی ملکیت  میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار ہوتا  ہے ،البتہ اس تقسیم  کی وجہ سے  والد گناہگار ہو گا
 نیز چونکہ بہنوں کا مذکورہ   مال میں حصہ نہیں ہے  اس لیے اب جو بھائی اپنے حصے میں سے بہنوں کو حصہ دینا چاہتا  ہے وہ اپنے مال  میں سے جتنا چاہے     اپنی  بہنوں کو   بطور تبرع   دے سکتاہے  اسی طرح  باقی بھائیوں کو بھی  چاہیے کہ اپنے والد  مرحوم  کے گناہ  کو کم کرنے کے لیے  اپنی   بہنوں کو  بطور تبرع  کچھ ادا کر کے  راضی کر لیں اور  اس میں بھائی  اپنی بہنوں کو جتنا زیادہ دیں وہ بہتر ہے؛کیونکہ اس سے والد مرحوم کا گناہ کم ہونے کے ساتھ ساتھ اِن  كو صلہ رحمی کا ثواب  بھی ملے گا۔
کمافي ردالمختار:
ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.
(كتاب الهبة،ج:5 ،ص:696 ،ط:دارالفكر)
وفي لسان الحكام:
وَلَو وهب جَمِيع مَاله من ابْنه جَازَ وَهُوَ آثم نَص عَلَيْهِ مُحَمَّد رَحمَه الله تعَالَى.
(ج:1 ،ص:371 ،ط:القاهرة)
وفي الفتاوي الهندية:
 لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار.
(ج:4 ،ص:378 ،ط:دارالفكر)
وفي المبسوط للسرخسي:
الْهِبَةَ لَا تَتِمُّ إلَّا بِالْقَبْضِ.
(كتاب الهبة،ج: 12،ص:49 ،ط:دار المعرفة)
وفي البحرالرائق:
(قَوْلُهُ وَالتَّمَكُّنُ مِنْ الْقَبْضِ كَالْقَبْضِ) قَالَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ الْهِبَةَ لَا تَتِمُّ إلَّا بِالْقَبْضِ وَالْقَبْضُ نَوْعَانِ حَقِيقِيٌّ وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ وَحُكْمِيٌّ وَذَلِكَ بِالتَّخْلِيَةِ.
(ج:7 ،ص:285 ،ط:دار الكتاب الإسلامي)
وفي مجلة الأحكام:
الْمَادَّةُ (1192) كُلٌّ يَتَصَرَّفُ فِي مِلْكِهِ كَيْفَمَا شَاءَ.
(الْفَصْلُ الْأَوَّلُ: فِيْ بَيَانِ بَعْضِ قَوَاعِدِ أَحْكَامِ الْأَمْلَاكِ،ج:1 ،ص:230 ٠،ط:نورمحمد)
وفي الفتاوي التاتارخانية:
وفي الذخيرة۔واذا أراد الرجل أن يفضل بعض أولاده في الهبة في حال الصحة روي عن أبي حنيفة:انه لابأس به،إذا كان التفضيل بسبب زيادة الفضل له في الدين، فان كان سواء يكره هكذا ذكر في بعض المواضع، وعن أبي يوسف: أنه لا بأس به إذا لم يرد الاضرار بالثاني،وذاك في بعض المواضع ان كان التفضيل بالزيادة فلا بأس بذلك،وإن كان في البر سواء لا ان يفعل ذلك، وان كان له ولد فاسق لا يعطيه،وينبغي أن لا يعطيه اكثر من قوته كي لايصير معينا له علي المعصية.
الفصل السادس في الهبة من الصغير،ص:462،ج:14، ط:اعزازية))

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 08 Aug 2026