سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-567 Fatwa no: 1448-567

طالب علم کا اپنے بھائی سے زکوۃ کا لینا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو بھائی ہیں ایک گھر میں کھاتے پیتے ہیں انکا گھر،کھیتی یعنی سارا سامان آپس میں شریک ہیں اور اس میں ایک بھائی وہ دین کا طالب علم ہے اور طالب علمی کا خرچہ وہ از خود برداشت کرتا ہے توآیا یہ اپنے بھائی سے زکوۃ لینے کا مستحق ہے کہ نہیں یعنی اس کے لیے جائز ہے کہ یہ اپنے بھائی سے زکوۃ لے لے اور اسی طرح صدقہ فطر؟
جواب :

بصورت مسئولہ   اگر چہ    طالب علم  اپنا خرچہ خود اٹھاتا ہے،لیکن  دونوں بھائیوں    کا مال (گھر، کھیت وغیرہ) آپس میں مشترکہ ہیں، اور مشترکہ مال سے  ایک بھائی کا  دوسرے بھائی سے  زکوۃ لینا درست نہیں ؛کیونکہ اس میں صورت میں  مذکورہ(طالب علم) بھائی  اپنے مال کو خود ہی  لینے والا ہو گا جو کہ زکوۃ کی صحت کے لیے   مانع ہے ،تاہم  اگر کھیت اور گھر  کے علاوہ طالب علم اور اس کے بھائی کی ملکیت  الگ الگ ہے  اور بھائی   کی ملکیت میں طالب علم  شریک نہیں ہے تو پھر  مستحق ہونے کی صورت میں زکوۃ وغیرہ اس سے لے سکتا ہے،مستحق کی شرط اس لیے کہ جب طالب علم  گھر اور کھیت وغیرہ میں شریک ہے  تو لازمی  بات ہے  کہ ان کی مالیت بقدر نصاب ہوگی  جو کہ  زکوۃ وصول کرنے کے لیے مانع  ہے۔
نیزصدقہ فطر کا حکم بھی  زکوۃ  کی طرح ہے کہ جس طرح  زکوۃ مشترکہ مال  سے نہیں لے سکتااسی طرح صدقہ فطر بھی  مشترکہ مال سے  طالب علم (بھائی) کا لینا درست نہیں ۔
 کما في القرآن المجيد:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ
(التوبة،آية:60،پاره:10)
وفي الفقه الاسلامي:
مصرفها أو من يأخذها:اتفق الفقهاء (1) على أن مصرف زكاة الفطر هو مصارف الزكاة المفروضة؛ لأن صدقة الفطر زكاة، فكان مصرفها مصرف سائر الزكوات؛ ولأنها صدقة، فتدخل في عموم قوله تعالى: {إنما الصدقات للفقراء والمساكين} [التوبة:60/ 9] ولا يجوز دفعها إلى من لا يجوز دفع زكاة المال إليه
(مصرفها،ص:2048،ج:3،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته….ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا
(المصارف،ص:189،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
قال الحنفية: يكره تنزيهاً نقل الزكاة من بلد إلى بلد آخر إلا أن ينقلها إلى قرابته المحاويج ليسد حاجتهم،….. أو إلى طالب علم…. فلا يكره نقلها….لأن المصرف مطلق الفقراء.
(نقل الزكاة لبلد آخر غير بلد المزكي،ص:1977،ج:3،ط: دار الفكر)
وفي الدر المختار:
وَ) كُرِهَ (نَقْلُهَا إلَّا إلَى قَرَابَةٍ أو إلَى طَالِبِ عِلْمٍ) وَفِي الْمِعْرَاجِ التَّصَدُّقُ عَلَى الْعَالِمِ الْفَقِيرِ أَفْضَل… فَلَا يُكْرَهُ
(المصرف،ص:354،ج:2،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 08 Aug 2026