سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-568 Fatwa no: 1448-568

سیر و تفریح کے لیے بچوں سے وصول شدہ رقم کو ان کی اجازت سے مدرسہ میں دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے چھوٹے بچوں کو سیر وتفریح کے لیے لے جاتے وقت ان سے پیسے لیے جاتے ہیں سیروتفریح کے بعد جو کچھ پیسے بچ جاتے ہیں ان پیسوں کو بچوں کی اجازت سے سکول کے فنڈ میں یا مدرسے کے فنڈ میں جمع کرانا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ  ولی کی اجازت کے بغیر بچے کا اپنے مال میں تصرف کرنا درست نہیں، لہذاصورت  مسئولہ میں سکول یا مدرسےوالوں کا  چھوٹے بچوں  کے پیسوں کو ان کے  ولی کی اجازت کے بغیر  سکول یا مدرسے کے فنڈ میں استعمال کرنا  جائز نہیں ،تاہم اگر ان کے والدین  کی طرف سے اجازت  مل جائے تو مشترکہ فنڈ میں جمع کرانا اور سکول یا مدرسے کی ضروریات میں استعمال کرنا جائز ہے ۔
البحر الرائق:
وإذا تصرف الصبي أو العبد أو الذمي قبل أن يخرجهم القاضي من الوصاية هل ينفذ تصرفهم اختلف فيه المشايخ فمنهم من قال ينفذ ومنهم من قال لا ينفذ وهو الصحيح.
(باب الوصي،۵۲۳/۸، دار الفكر)
جوهرةالنيرة:
قوله : ( الصغر ، والرق ، والجنون ولا يجوز تصرف الصبي إلا بإذن وليه ) المراد الصبي الذي يعقل أما غيره فلا يجوز ولو أذن له وليه.
(كتاب الحجر،۴۱۸/۲، دارالفكر)
الدرالمختار مع ردالمحتار:
مبحث في تصرف الصبي ومن له الولاية عليه وترتيبها. قوله ( وتصرف الصبي والمعتون 
الخ ) ذكر هذه المسألة في هذا الكتاب نظرا إلى إذن ولي الصبي وكونه مأذونا بإذنه وبين حكم وذكرها في كتاب الحجر حيث قال ومن عقد منهم وهو يعقله أجاز وليه أو رده نظرا إلى كونه محجورا وبين حكمه .
(مبحث في تصرف الصبي ومن له الولاية عليه وترتيبها،۱۷۳/۶،:دار الفكر)
مجمع الأنهر:
فصل في بيان حكم الصبي والمعتوه تصرف الصبي إن نفع بلا ضرر أصلا كالإسلام وقبول الهبة والصدقة صح بلا إذن أي بلا توقف على إذن الولي لكونه أهلا ولو على  القصور  وإن ضر أي إن كان تصرفه ضارا كالطلاق والإعتاق فلا يصح ولو وصلية بإذن لانعدام۔
(كتاب المأذون ،۷۴/۴، دار الفکر)

 

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 08 Aug 2026