نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر بچے کا اپنے مال میں تصرف کرنا درست نہیں، لہذاصورت مسئولہ میں سکول یا مدرسےوالوں کا چھوٹے بچوں کے پیسوں کو ان کے ولی کی اجازت کے بغیر سکول یا مدرسے کے فنڈ میں استعمال کرنا جائز نہیں ،تاہم اگر ان کے والدین کی طرف سے اجازت مل جائے تو مشترکہ فنڈ میں جمع کرانا اور سکول یا مدرسے کی ضروریات میں استعمال کرنا جائز ہے ۔
البحر الرائق:
وإذا تصرف الصبي أو العبد أو الذمي قبل أن يخرجهم القاضي من الوصاية هل ينفذ تصرفهم اختلف فيه المشايخ فمنهم من قال ينفذ ومنهم من قال لا ينفذ وهو الصحيح.
(باب الوصي،۵۲۳/۸، دار الفكر)
جوهرةالنيرة:
قوله : ( الصغر ، والرق ، والجنون ولا يجوز تصرف الصبي إلا بإذن وليه ) المراد الصبي الذي يعقل أما غيره فلا يجوز ولو أذن له وليه.
(كتاب الحجر،۴۱۸/۲، دارالفكر)
الدرالمختار مع ردالمحتار:
مبحث في تصرف الصبي ومن له الولاية عليه وترتيبها. قوله ( وتصرف الصبي والمعتون
الخ ) ذكر هذه المسألة في هذا الكتاب نظرا إلى إذن ولي الصبي وكونه مأذونا بإذنه وبين حكم وذكرها في كتاب الحجر حيث قال ومن عقد منهم وهو يعقله أجاز وليه أو رده نظرا إلى كونه محجورا وبين حكمه .
(مبحث في تصرف الصبي ومن له الولاية عليه وترتيبها،۱۷۳/۶،:دار الفكر)
مجمع الأنهر:
فصل في بيان حكم الصبي والمعتوه تصرف الصبي إن نفع بلا ضرر أصلا كالإسلام وقبول الهبة والصدقة صح بلا إذن أي بلا توقف على إذن الولي لكونه أهلا ولو على القصور وإن ضر أي إن كان تصرفه ضارا كالطلاق والإعتاق فلا يصح ولو وصلية بإذن لانعدام۔
(كتاب المأذون ،۷۴/۴، دار الفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 08 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔