سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-570 Fatwa no: 1448-570

معاہدہ میں درج شرط کی خلاف ورزی پر طلاقِ معلّق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قاری صاحب ایک آن لائن اکیڈمی میں پڑھاتے ہیں ایک دن اکیڈمی کا مالک کہتاہے مجھے آپ پر شک ہے میں اپنا شک دور کرنا چاہتا ہوں اور ایک پرچہ نکال کر اس قاری صاحب کو دیتا ہے کہتا ہے اس کو پڑھو وہ قاری صاحب اس کا صرف مطالعہ کرتا ہے اور اس میں یہ لکھا ہے میں اکیڈمی کے اسٹوڈنٹس سے رابطہ نہیں کروں گا ان کو اکیڈمی کے خلاف ورغلاؤں گا نہیں،ان کو اکیڈمی کی اجازت کے بغیر نہیں پڑھاؤں گا اور کسی اور کو یہاں کے طالب علم نہیں دوں گا میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کلما کی طلاق ہواس کے پڑھنے کے بعد آخر میں قاری صاحب سے دستخط لیتا ہے، لیکن قاری صاحب کی نیت طلاق کی نہیں تھی اور دستخط بھی رضا سے نہیں کیے تھے اب پوچھنا یہ ہے کہ پھر کسی وقت قاری صاحب کسی سٹوڈنٹ سے رابطہ کرے آیا اس معائدہ کی وجہ سے اس کی بیوی کو طلاق ہو گی؟
جواب :

 واضح رہے کہ قرآن مجید میں  ایفائے عہد کا حکم آیا ہے    ،لہذا صورت مسئولہ میں  قاری صاحب کا ایگریمنٹ کرنے کے بعد کسی بھی ایسے فعل (سٹوڈنٹ سے رابطہ کرنا وغیرہ ) سے   احتراز کرنا ضروری  ہےجو معائدہ کے خلاف ہو ؛کیونکہ ایگریمنٹ  کی مخالفت کرنا گناہ ہے ،البتہ اس  مخالفت سے ان کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی؛کیونکہ    کلما کی طلاق یہ عنوان ہے اور  صرف عنوان ذکر کرنے سے  اس کی کوئی حقیقت نہیں پائی جاتی ،لیکن  قسم ( اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں  ) کا کفارہ(دس مسكينوں كو كهاناكهلانا،کپڑے دینايامسلسل تين روزے ركهناوغيره) دینا لاز م ہوگا۔ 
كما في القرآن المجيد:
وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (89).
(سورة المائدة،الاية:89)
وفيه ايضا:
{وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولا}.....{وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ}
(الاسراء،34،النحل،91)
وفي الدرالمختار مع ردالمحتار:
أَنَّ كُلَّمَا لِعُمُومِ الْأَفْعَالِ وَعُمُومُ الْأَسْمَاءِ ضَرُورِيٌّ، فَيَحْنَثُ بِكُلِّ فِعْلٍ حَتَّى تَنْتَهِيَ طَلَقَاتُ هَذَا الْمِلْكِ، وَكُلُّ لِعُمُومِ الْأَسْمَاءِ وَعُمُومُ الْأَفْعَالِ ضَرُورِيٌّ؛ وَلَوْ قَالَ الْمُصَنِّفُ إلَّا فِي كُلٍّ وَكُلَّمَا لَكَانَ أَوْلَى لِأَنَّ الْيَمِينَ فِي كُلٍّ وَإِنْ انْتَهَتْ فِي حَقِّ اسْمٍ بَقِيَتْ فِي حَقِّ غَيْرِهِ مِنْ الْأَسْمَاءِ.
(الفاظ الشرط،ص:353،ج:3،ط:دارالفكر)

وفيه ايضا:
لِمَا فِي الْبَزَّازِيَّةِ مِنْ كِتَابِ أَلْفَاظِ الْكُفْرِ: إنَّهُ قَدْ اشْتَهَرَ فِي رَسَاتِيقِ شروان أَنَّ مَنْ قَالَ جَعَلْت كُلَّمَا أَوْ عَلَيَّ كُلَّمَا أَنَّهُ طَلَاقٌ ثَلَاثٌ مُعَلَّقٌ، وَهَذَا بَاطِلٌ وَمِنْ هَذَيَانَاتِ الْعَوَامّ
(صريح الطلاق،ص:247،ج:3،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
كل امرأة أتزوجها فهي طالق فزوجه فضولي وأجاز بالفعل (500) بأن ساق المهر ونحوه لا تطلق بخلاف ما إذا وكل به لانتقال العبارة إليه في المنتقى إن تزوجت فلانة فهي طالق وإن أمرت من يزوجنيها فهي طالق فأمر إنسانا فزوجها منه طلقت ولو تزوجها من غير أن يأمر أحدا لا تطلق 
(الفصل الثاني في تعليق الطلاق بكلمة كل وكلما،ص:419،ج:1،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026