سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-571 Fatwa no: 1448-571

ایک بھائی کے مال سے خریدی ہوئی زمین میں تمام بھائیوں کی شراکت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پانچ بھائی ہیں ایک گھر میں رہتے ہیں تمام بھائیوں نے گھر بنانا چاہا تو گھر بنانے کے لیے ایک کنال (جو مشترکہ تھی وہ )زمین پوری بیچ دی اس کے بعد ایک بھائی جس کا نام امجد ہے جاپان گیا اس نے پیسے جاپان سے بھیج دیے تو وہ زمین واپس خرید لی اب امجد کہتا ہے کہ وہ جگہ میری ہے اور باقی بھائی کہتے ہیں کہ ہم سب اس زمین میں شریک ہیں ؟ (نوٹ): زمین خریدتے وقت سب بھائیوں کاکھانا پینا نفع و نقصان مشترکہ تھا ،البتہ کام کی نوعیت الگ الگ تھی ایک بھائی جاپان میں کام کرتاتھاباقی پاکستان میں کام کرتے تھے۔
جواب :

صورت مسئولہ  میں  مذکورہ بھائی(امجد)  کے  بھیجے ہوئے  مال سے خریدی ہوئی زمین میں سب بھائی  شریک ہونگے ؛کیونکہ زمین خریدتے وقت تمام بھائی کھانے پینے اور تمام اخراجات میں شریک    تھے  ،اور اس وقت تمام بھائیوں کا    مال  مخلوط  بھی  تھا اس لیے اس  سے خریدی ہوئی زمین میں  تمام بھائی شریک ہونگے۔
كما في الفتاوي الهندية:
الشركة نوعان شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما،...وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار ....وشركة الاختيار أن يوهب لهما مال أو يملكا مالا باستيلاء أو يخلطا مالهما...وركنها اجتماع النصيبين، وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك،....ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط، كذا في الكافي.
(كتاب الشركة،ص:301،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الإسلامي وأدلته:
شركة الأملاك: هي أن يتملك شخصان فأكثر عيناً من غير عقد الشركة، وهي نوعان: شركة اختيار: وهي التي تنشأ بفعل الشريكين، مثل أن يشتريا شيئاً أو يوهب لهما شيء أو يوصى لهما بشيء، فيقبلا، فيصير المشترى والموهوب والموصى به مشتركاً بينهما شركة ملك 
(أقسام الشركة،ج:10،ص:3877،3878،ط: دار الفكر)
وفي المحيط البرهاني:
وهو الخلط؛ لأن بالخلط تثبت شركة الملك لا محالة، فتتأكد شركة العقد أيضاً
(انواع الشركات،ص:6،ج:6،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026