سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-572 Fatwa no: 1448-572

بریلوی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم لوگ تبلیغ کے لیے کبھی جماعت میں ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں بریلویوں کی مسا جد ہوتی ہیں اور ہم دیوبندی ہیں آیاان کے پیچھے نماز ادا کر نے کا کیا حکم ہے ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر بریلوی مساجد کے امام کےعقائد شرکیہ ہوں :جیسے نبیﷺ کو عالم الغیب اور حاضرو ناظر سمجھتا ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا  جائز نہیں  اور اگر پڑھ لی ہو تو اس کا اعادہ کرنا لازم ہےاور اگر اس کے عقائد  شرکیہ نہ ہو بلکہ   وہ دیگر بدعتی رسومات  جیسے:تیجا ،چالیسواں کرتا ہوں  اور اس کے علاوہ دوسرا صحیح العقیدہ امام  موجود ہو تو  اس  امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز  نہیں  اور اگر کوئی  امام نہ ہو تو  اکیلے نماز ادا کرنے کے بجائے اس کے پیچھے جماعت سے نماز ادا  کی جائے۔  
كما في الدرالمختار:
(ومبتدع ) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول۔۔۔۔ ( لا يكفر بها)۔۔۔۔ (وإن)أنكربعض ماعلم من الدين ضرورة ( كفر بها )۔۔۔( فلا يصح الاقتداء به أصلا )فليحفظ.
( باب الامامة،ص:560،ج:1،ط:سعيد)
وفي تبيين الحقائق:
( والمبتدع ) أي صاحب الهوى قال المرغيناني تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ولا تجوز خلف الرافضي والجهمي والقدري والمشبه ومن يقول بخلق القرآن حاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه يجوز مع الكراهة وإلا فلا.
( باب الامامة:ص:134،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي فتاوي عثماني:
حضورﷺ کو عالم الغیب اورحاضر و ناظر ماننے والے کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں.
(ج:1،ص:407،ط:ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026