سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-575 Fatwa no: 1448-575

بنیان اور ٹراؤزر پہن کر مسجد میں جانا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد میں کیسا لباس پہن کر آنا چاہیے ایک شخص ایسا لباس پہنتا ہے اور اس میں وہ بازار یا عام جگہ میں چلتا پھرتا ہے، لیکن غیر کی مشابہت ہوتی ہے یعنی بنیان اور ٹراؤزر جو آ ج کل نوجوان پہنتے ہیں جس کو نکر کہا جاسکتا ہے انگریزی میں شارٹ پینٹ یا پاجامہ کہتے ہیں جو ٹخنوں سے اوپراور گھٹنے سے نیچے ہوتا ہے اس کو معیوب نہیں سمجھتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب :

  بنیان اور ٹراؤزر کا پہننا شرعاً ناجائز نہیں ہے،لیکن  اگر اس لباس سے جسم کاحجم نظر آتا ہو تو ایسےلباس  کا پہننا جائز نہیں ،لہذا   صورت مسئولہ میں  اگر بنیان یا ٹراؤزر  اتنے تنگ ہوں  کہ اس سے جسم کا حجم نظر آتا ہو تو  مذکورہ شخص کےلیے اس کا پہننا جائز نہیں اورا س کو پہن کر مسجد میں جانا اور نماز اداکرنا مکروہ ہے، بصورت دیگر اگر جسم کا حجم نظر نہ آتا ہو تو اس کے ساتھ نماز ادا کرنا  درست ہے ،لیکن  صلحاء کا لباس نہ ہونے کی وجہ سے اس کا پہننا  خلاف اولی ہے ؛اس لیے بہتر یہی ہے کہ ایسا لباس پہنا جائے جو  نہ زیادہ تنگ ہو اور  نہ زیادہ کھلا ہو ،بلکہ  اس لباس میں نماز ادا کرے جو عرف وعام میں اکثر لوگ  پہنتے ہیں ۔ 
كمافي مرقاةالمفاتيح:
(مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ) : أَيْ مَنْ شَبَّهَ نَفْسَهُ بِالْكُفَّارِ مَثَلًا فِي اللِّبَاسِ وَغَيْرِهِ، أَوْ بِالْفُسَّاقِ أَوِ الْفُجَّارِ أَوْ بِأَهْلِ التَّصَوُّفِ وَالصُّلَحَاءِ الْأَبْرَارِ. (فَهُوَ مِنْهُمْ) : أَيْ فِي الْإِثْمِ وَالْخَيْرِ.
(اللباس،ص:2782،ج:7،ط: دار الفكر)
وفي البحرالرائق:
وقال عليه الصلاة والسلام من تشبه بقوم فهو منهم والمراد بقوله كره كراهة التحريم ويستوي فيه الرجال والنساء لاطلاق ما روينا،
(اللبس،ص:340،ج:8،ط: دار الكتب العلمية بيروت)
وفي الفقه الاسلامي:
ثياب الفضيلة:وهو أن يصلي الرجل في ثوبين أو أكثر، فإنه أبلغ وأعم في الستر، روي عن عمر أنه قال: «إذا أوسع الله فأوسعوا، جمع رجل عليه ثيابه، صلى رجل في إزار وبرد، أو في إزار وقميص، في إزار وقباء، في سراويل ورداء، في سراويل وقميص، في سراويل وقباء، في تُبّان وقميص»، وقال عمر أيضاً: «إذا كان لأحدكم ثوبان، فليصل فيهما، فإن لم يكن إلا ثوب واحد، فليتزر به، ولا يشتمل اشتمال اليهود»
ما يحرم لبسه والصلاة فيه:وهو قسمان:الأول: النجس....والثاني: المغصوب، وتصح الصلاة فيه عند الجمهور، ..ب ـ ما يختص تحريمه بالرجال دون النساء: وهو الحرير، والمنسوج 
بالذهب، والمموه به، يحرم لبسه وافتراشه في الصلاة وغيرها. لقوله صلّى الله عليه وسلم: «حرم لباسالحرير والذهب على ذكور أمتي وأحل لإناثهم»
(ما يجزئ من اللباس،ص:986،ج:2،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026