سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-576 Fatwa no: 1448-576

بھائیوں کا جائیداد آپس میں تقسیم کرنے کے بعد ایک بھائی کا بہنوں کا حصہ واپس کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد فوت ہو چکے ہیں ان کی اولاد میں 6 بیٹے اور 8 بیٹیاں ہیں، جن میں سے 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں حقیقی (ایک ماں اور باپ سے) ہیں، باقی 4 بیٹے اور 6 بیٹیاں علاتی( باپ شریک )ہیں تمام بھائیوں نے مل کر جائیداد آپس میں بانٹ لی ہے اور بہنوں کو حصہ نہیں دیا ہے، اب ایک حقیقی بھائی اپنی بہنوں کو ان کے حصے دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور دوسرے بھائی اس پر راضی نہیں ہیں تو جو بھائی حصہ دینا جاہتا ہے اس کے حصے میں بہنوں کا کتناحصہ بنتا ہے؟
جواب :

 صورت مسئولہ میں  مرحوم کی میراث میں جس طرح ان کے بیٹوں کا حق ہے اسی طرح مرحوم کی بیٹیوں کا بھی حق ہے ؛اس لیے مذکورہ صورت میں  بھائیوں  کا آپس میں جائیداد تقسیم کر کے بہنوں کو محروم کر دینا شرعاً ناجائز اور ظلم ہے ،لہذا ان کو  چاہیے کہ شریعت کے مطابق  جائیداد کو تقسیم کریں جس کی تقسیم اس طرح ہو گی   کہ   میت  کے کل مال کے بیس حصے بنائے جا ئیں  ان میں  سے آٹھ حصے بیٹیوں    میں تقسیم کیے جائیں   اس طور پر  کہ ہر ایک بیٹی   کو ایک ایک حصہ دیا جائے   پھر باقی بارہ حصے  چھ بیٹوں میں تقسیم کیے جائیں کہ    ہر ایک بیٹے   کو  دو دو  حصےدیے جائیں ۔
لیکن اگر   ایک بھائی کے علاوہ دوسرے بھائی بہنوں کو  حصے دینے پرراضی نہ ہو صرف  ایک  بھائی اپنے  حصے سے دینا  چاہتا  ہو  تو     کل مال کے بیس حصوں  میں جو دو حصے  اس  کے اصلاً  بنتے ہیں اس کو لینے کے بعدجو  مال(  بھائیوں کے جائیداد آپس میں تقسیم کرنے کے بعد) ا س کے حصے میں زائد  آیا  ہے وہ تمام بہنوں میں برابر طور پر تقسیم کر لیں۔
كما في القرآن المجيد:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ
(النساء،آية:11،12،پاره،4)
وفي المبسوط:
فإن الله تعالى بين نصيب كل واحد من أصحاب الفرائض والتقدير الثابت بالنص يمنع الزيادة عليه لأن في الزيادة مجاوزة الحد الشرعي وقد قال الله تعالى بعد آية المواريث: {وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ} [النساء: 14] الآية، فقد ألحق الوعيد بمن جاوز الحد المشروع وفي الرد عليهم زيادة على ما قدر لكل واحد منهم.
( الجزء تاسع والعشرون،:356،ج:29،ط:دار الفكر)
وفي شرح المجلة:
 ( المادة 97 ) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف { لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده } فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا.
(وفي قواعد الكلية الفقهية،ص:255،ج:1،ط: انوار القرآن)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026