سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-577 Fatwa no: 1448-577

بیوہ کے انتقال کے بعد اس کے بھائیوں کا شوہر کی میراث میں حصہ طلب کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جس کا نام زبردست تھا وہ فوت ہوگیا ہے جس کے بعد ورثاء میں سے ایک بیوی اور دو بھتیجے (ابن الاخ) رہ گئے ان کے درمیان میراث تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کی بیوی نے اپنے گھر کا کچھ حصہ اپنی مرضی سےکسی اجنبی آدمی کو دے دیا جو بعد میں زبردست کے بھتیجوں نے کیس کر کے زمین کا وہ حصہ اس اجنبی سے واپس لے لیا ،اب زبردست کی بیوی فوت ہو گئی ہے اور ان کے بھائی زبردست کے بھتیجوں سے اپنی بہن کا حصہ مانگ رہے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعاً ان کا یہ مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں ،میراث میں ان کاحصہ بنتا ہے یا نہیں ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں  بیوی نے میراث کی تقسیم سے پہلے جو  گھر کا کچھ حصہ  کسی اجنبی مرد  کو ہبہ کیا  وہ ہبہ جائز نہیں تھا؛کیونکہ ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے  وہ چیز  مشترکہ نہ ہو،لہذا بھتیجوں کا  وہ حصہ واپس لینے کے بعد  بھی اس میں  میت( زبردست )کی بیوی کا حصہ بنتا ہے  اور اب چونکہ  وہ بھی فوت ہوگئی ہے تو اس لیے  اس کے ورثاء (بھائی ) کا اپنی بہن کے حصے  کا مطالبہ کرنا درست ہے ۔
کما في القرآن مجيد:
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
(النساء،آية:12)
وفي الفتاوی الهندية:
(الباب الثالث في العصبات) وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال ....فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب
(العصبات،ص:451،ج:6،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
هبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تجوز، سواء كانت من شريكه أو من غير شريكه،...ويشترط في صحة هبة المشاع الذي لا يحتمل القسمة أن يكون قدرا معلوما حتى لو وهب نصيبه من عبد ولم يعلم به لم يجز؛ لأنها جهالة توجب المنازعة،
(فيما يجوز من الهبة،ص:378،ج:4،ط:دار الفكر)
وفي بدائع الصنائع:
(وَمِنْهَا) أَنْ يَكُونَ مَحُوزًا فَلَا تَجُوزُ هِبَةُ الْمُشَاعِ فِيمَا يُقَسَّمُ وَتَجُوزُ فِيمَا لَا يُقَسَّمُ كَالْعَبْدِ وَالْحَمَّامِ وَالدِّنِّ وَنَحْوِهَا وَهَذَا عِنْدَنَا
(شرائط ركن الهبة،ص:119،ج:6،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026