سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-578 Fatwa no: 1448-578

بیٹی کو دیے ہوئے جہیز کے واپس لینے حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد کی طرف شادی کے موقع پر بیٹی کو جہیز دیا جاتا ہے کیا والد اپنی بیٹی سے اس کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب :

والد کی طرف سے بیٹی کو جو جہیز دیا جاتا ہے وہ ہبہ ہو تا ہے  اور ہبہ پر  قبضہ کرنے کے بعد بیٹی  مالک بن جاتی ہے ،لہذا  شادی کے بعد  والد کے لیے اپنی بیٹی سے  اس کی واپسی  کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے؛اس لیے کہ بیٹی محرم رشتہ دار ہے اور محرم کو ہبہ  کرنے  کے بعد ان سے رجوع  نہیں کیا جاسکتا۔
الهندية:
(الفصل السادس عشر في جهاز البنت) لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى.... الأم في تجهيزها لبنتها أشياء من أمتعة الأب بحضرته وعلمه وكان ساكتا وزفت إلى الزوج؛ فليس للأب أن يسترد ذلك من بنته
(الفصل السادس عشر في جهاز البنت،۳۲۹/۱،دارالفکر)
الدرالمختار:
(جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته).. (وبه يفتى)
(المهر،۱۵۵/۳،دارالفکر)
حاشية الطحطاوي:
(جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته).. (وبه يفتى)
(المهر،۲۳۲/۱،وحيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026