سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-579 Fatwa no: 1448-579

بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر باہر جانا اور دینی امور میں کوتاہی کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کچھ گھریلو معاملات کے متعلق شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں، گزارش ہے کہ درج ذیل امور کی شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں وضاحت فرما دیں کہ اگر بیوی یہ اعمال شوہر کی مرضی اور اجازت کے بغیر انجام دے، یا شوہر کے واضح منع کرنے کے باوجود کرے، تو ان کی شرعی حیثیت کیا ہو گی؟ براہِ کرم ہر معاملے کے متعلق بتائیں کہ آیا وہ حرام، حلال، مباح، مکروہ یا واجب میں سے کس درجے میں آتا ہے۔ (1):بیوی کا بغیر شوہر کی اجازت کے نامحرم کزن کی سالگرہ پر جانا، اور شوہر سے یہ جھوٹ بولنا کہ وہ (کزن) وہاں موجود نہیں ہے۔ (2):شوہر کے بلانے پر بیوی کا انکار کرنا، جبکہ شوہر نے واضح طور پر بلایا ہو۔ (3): بیوی کا شوہر کے سامنے شرم و حیا کا لحاظ نہ رکھنا، اور بدتمیزی سے پیش آنا۔ (4): جب شوہر بیمار ہو اور فجر یا تہجد کے وقت ہیٹر چلانے کا کہے، تو بیوی کا چیخنا، سخت لہجے میں بات کرنا یا بد زبانی کرنا۔ (5): بیوی کا شوہر کی بات نہ ماننا جب وہ اسلام آباد اپنے والدین کے ساتھ رہنے کی بات کرے۔ (6): بیوی کا رات دیر سے سونا، جب کہ شوہر بار بار کہہ رہا ہو کہ جلدی سویا کریں۔ (7): بیوی کا ایسی اشیاء (جیسے کول ڈرنکس، فاسٹ فوڈ) کھانا جن سے شوہر نے صحت کی بہتری کے لیے منع کیا ہو۔ (8): بچوں کے لیے گھر میں دیوار پر چڑھنے (wall climbing) کی سہولت لگانے کی اجازت نہ دینا، جبکہ شوہر اس کے اخراجات دے رہاہو۔ (9): بیوی کا بچوں کو سالگرہ کی تقریبات میں بھیجنا، چاہے شوہر اس سے منع کرے۔ (10): بیوی کا شوہر پر ہاتھ اٹھانا یا جسمانی تشدد کرنا۔ (11):ڈرائیور، نوکر یا ملازمہ سے بیوی کا سختی اور غصے سے پیش آنا یا چیخنا۔ (12):بچوں کو کارٹون دکھانا (عام طور پر تفریحی کارٹون)۔ (13):بچوں کو مغربی طرز کے لباس پہنوانا۔ (14):بیوی کا موبائل اور سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا۔ (15):بیوی کا رات گئے تک ٹی وی شوز یا ڈرامے دیکھنا۔ (16):بیوی کا نماز ہمیشہ تاخیر سے ادا کرنا۔ (17):بیوی کا بچوں کو مارنا یا جسمانی سزا دینا۔ (18):بیوی کا شوہر کے والد (سسر) سے جھگڑنا یا ان کے ساتھ بدتمیزی کرنا۔ (19):بیوی کا اپنی والدہ کی بات نہ ماننا، جب وہ کہے کہ شوہر کے سامنے خاموشی اختیار کرو۔ (20): بیوی کا اپنی ماں سے چیخ کر بات کرنا۔ (21):بیوی کا گھر میں قرآن مجید نہ پڑھنا یا اس سے غفلت کرنا۔ براہِ کرم ان تمام امور پر قرآن و سنت کی روشنی میں فتویٰ عنایت فرما دیں، تاکہ گھریلو زندگی کو شریعت کے مطابق گزارنے میں آسانی ہو؟
جواب :

 بصورت مسئولہ سوال کے اندر جن  باتوں کا ذکر کیا گیا  ہے  ان میں سے بعض  ناجائز  ہیں جیسے  شوہر کے بلانے پرانکار کرنا اور اس  سے بدتمیزی کرنااور بات نہ ماننا   وغیرہ  اور  بعض حرام ہیں  جیسے شوہر کو مارنا اور ماں  کی بات  نہ ماننا  اور اس سے چیخ کر بات  کرنا وغیرہ  اور  بعض    گمراہانہ ہیں  جیسے قرآن  سے غفلت اور  نہ پڑھنا  وغیرہ الغرض  مذکورہ  بالا  صفات  والی بیوی شوہر کی نافرمان  ہے ایسی عورت  پر حدیث میں لعنت  کی گئی ہے  اس کو   چاہیئے کہ وہ  ان سب  افعال سے   توبہ استغفار کریں اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو شوہر کو  چاہیے کہ قرآن وحدیث کے مطابق  ان کی اصلاح کرے کہ پہلے اپنی  بیوی کو  وعظ و نصیحت کرے اور اگر اس سے بھی وہ باز نہ آئے تو  پھر اس سے اپنا بستر جدا کر لے اور اگر اس سے بھی وہ باز نہ آئے تو اس کو      مار بھی سکتا ہے  ،لیکن مار  زیادہ  سخت نہ ہو اوراگر وہ اس سے بھی باز نہ آئے تو  پھر خاندان کے بزرگوں کے سامنےاپنا معاملہ پیش کرے  ،پھروہ لوگ دونوں کے درمیان یا تو  صلح کرا دیں یا تفریق کا فیصلہ کر  دیں ،
ہمارے ہاں یہ اصول ہے  کہ ایک  فتوی میں تین سے  زیادہ سوال  نہیں ہونے چاہیے اگر زیادہ   سوال تفصیل سے پوچھنے ہوں تو  الگ الگ  استفتاء  بھیجیں  جو زیادہ سے زیادہ تین  سوالوں پر مشتمل ہوںس۔
كما فی القرآن المجيد:
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا
(العنكبوت،آية:8)
وفيه ايضا:
وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا"
 (البقرہ،آية:83)
وفيه ايضا:
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ، الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ" 
(الماعون،آية:4،5)
وفيه ايضا:
وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا
(اسراء،آية:23)
وفيه ايضا:
وَقَالَ الرَّسُولُ يَارَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا" 
(الفرقان،آية:30)
وفي صحيح البخاري:
باب ما جاء في الصِّحَّةِ والفَراغ، و"لا عَيْشَ إلا عَيْشُ الآخِرةِ"
2451 - عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ رضي الله عنهُما قال: قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم -:
"نِعمتانِ مغْبونٌ فيهما كَثيرٌ مِن النّاس: الصِّحَّةُ والفَراغُ
(باب ما جاء في الصِّحَّةِ والفَراغ،ص:136،ج:4،ط: مكتَبة المَعارف للنَّشْر)
وفي مسند ابي داؤد:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النِّسَاءِ الَّتِي إِذَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا سَرَّتْكَ، وَإِذَا أَمَرْتَهَا أَطَاعَتْكَ، وَإِذَا غِبْتَ عَنْهَا حَفِظَتْكَ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهَا»
(وَمَا رَوَى سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،ص:87،ج:4،ط: دار هجر)
وفي سنن ابي داؤد:
عن ابنِ عُمَرَ، قال: قال رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم -:، مَن تَشَبَّه بقومٍ فهو منهم"
(باب في لبس الشهرة،ص:144،ج:6،ط: دار الرسالة العالمية)
وفيه ايضا:
قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: "مُرُوا أولاكمِ بالصلاةِ وهم أبناءُ سبعِ سِنينَ، واضرِبوهم عليها وهم أبناءُ عَشرٍ، وفرِّقوا بينهم في المَضاجِعِ
(متي يومر الغلام،ص:367،ج:1،ط: دار الرسالة العالمية)
وفي مسند احمد:
وقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ليس منَّا مَن لم يُوَقِّرْ كبيرَنا،
(اكرام الشيوخ،ص:403،ج:6،ط: دار الحديث)
وفي سنن ابن ماجه:
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ»
(تعظيم حديث،ص:7،ج:1ط: دار إحياء الكتب العربية)
وفی شرح السنة:
إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا، فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»
(حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى المرأَةِ،ص:157،ج:9،ط: المكتب الإسلامي)
وفي المعجم الكبير:
«لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ 

حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ أَعْطَتْهُ»
(النهي ان يسجد لاحد،ص:208،ج:5،ط: دار إحياء التراث العربي)

وفيه ايضا:
سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: «لَوْ أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَيْهِ، فَوَجَدَتْ زَوْجَهَا قَدْ تَقَطَّعَ جُذَامًا يَسِيلُ أَنْفُهُ دَوْمًا فَلَحَسَتْهُ بِلِسَانِهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ، وَمَا لِامْرَأَةِ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، وَلَا أَنْ تُعْطِي مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ»
(حق الزوج في المراة،ص:259،ج:8،ط:دار إحياء التراث العربي)
 وفي الدرالمختار مع ردالمحتار:
(وَكَذَا تَجِبُ لَهَا السُّكْنَى فِي بَيْتٍ خَالٍ عَنْ أَهْلِهِ) .....وَبَيْتٍ مُنْفَرِدٍ مِنْ دَارٍ لَهُ غَلْقٌ. (قَوْلُهُ وَبَيْتٍ مُنْفَرِدٍ) أَيْ مَا يُبَاتُ فِيهِ؛ وَهُوَ مَحَلٌّ مُنْفَرِدٌ مُعَيَّنٌ قُهُسْتَانِيٌّ. وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْمُرَادَ بِالْمُنْفَرِدِ مَا كَانَ مُخْتَصًّا بِهَا لَيْسَ فِيهِ مَا يُشَارِكُهَا بِهِ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الدَّار.... لَيْسَ لَهَا أَنْ تُطَالِبَهُ بِمَسْكَنٍ آخَرَ... وَيَمْنَعُهَا مِنْ زِيَارَةِ الْأَجَانِبِ وَعِيَادَتِهِمْ وَالْوَلِيمَةِ، وَإِنْ أَذِنَ كَانَا عَاصِيَيْنِ كَمَا مَرَّ فِي بَابِ الْمَهْرِ.وَفِي الْبَحْرِ: لَهُ مَنْعُهَا مِنْ الْغَزْلِ وَكُلِّ عَمَلٍ وَلَوْ تَبَرُّعًا لِأَجْنَبِيٍّ
(مطلب في مَسْكَنِ الزَّوْجَةِ،ص:600،ج:3،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَإِنْ وَجَبَ ضَرْبُ ابْنِ عَشْرٍ عَلَيْهَا بِيَدٍ لَا بِخَشَبَةٍ) لِحَدِيثِ «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعٍ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ»
(الصلاة،ص:352،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
المبحث الثاني ـ حقوق الزوج:إن أهم حقوق الزوج ما يأتي (1):
طاعة الزوجة لزوجها في الاستمتاع والخروج من المنزل:..... وعلى الزوجة طاعة زوجها إذا دعاها إلى الفراش، ولو كانت على التنور أو على ظهر قتَب، .... وقوله: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فأبت أن تجيء، فبات غضبان عليها، لعنتها الملائكة، حتى تصبح»
المعاشرة بالمعروف: يجب على المرأة معاشرة الزوج بالمعروف من كف الأذى وغيره، كما عليه معاشرتها بالمعروف، لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا تؤذي امرأة زوجها في الدنيا إلا قالت زوجته من الحور العين: لا تؤذيه، قاتلكِ الله، فإنما هو عندكِ دخيل، يوشك أن يفارقك إلينا» (3) وقال صلّى الله عليه وسلم: «ما تركت بعدي فتنة هي أضر على الرجال من النساء»حق التأديب : للزوج الحق في تأديب زوجته عند نشوزها أو عصيانها أمره بالمعروف لا في المعصية.....إن ولاية التأديب للزوج تكون إذا لم تطعه زوجته فيما يلزم طاعته، بأن كانت ناشزة. وأمارات النشوز: إما بالفعل كالإعراض والعبوس والتثاقل إذا دعاها بعد لطف وطلاقة وجه، وإما بالقول، كأن تجيبه بكلام خشن بعد أن كان بلين.ويبدأ الزوج بالتأديب عند ظهور أمارات النشوز
(حقوق الزوج،ص:6891،ج:9،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026