نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںشہر کی فناء کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ جگہ شہر کے مصالح اور ضروریات کے لیے مستعمل ہو چاہے وہ شہر کے ساتھ متصل ہو یا نہ ہو جیسےشہر کے باہر جنازہ گاه ہوناشہر کے مصالح اور ضروریات میں شامل ہےاس کوشہر کی فناء میں داخل کیا جاسکتا ہے ،جبکہ صورت مسئولہ میں پٹیاں نامی گاؤں جو بٹل شہر سے تقریباً 7 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اس کا بٹل شہر کے مصالح اور ضروریات سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک مستقل آبادی ہے اور اس کو بٹل کے نام سے نہیں پہچانا جاتا؛اس لیے اس گاؤں کو بٹل شہر کی فناء میں داخل کر کے اس کے اندر جمعہ کی نماز جاری کرنادرست نہیں اور جو لوگ وہاں پر جمعہ شروع کریں ان کی نماز نہیں ہوگی اور نہ ہی ان لوگوں کی نماز ہو گی جو ان کی وجہ سے جمعہ پڑھے گے،بلکہ ان کے ذمہ ظہر کی نماز باقی رہے گی۔
كما في الدر المختار مع ردالمحتار:
(وَيُشْتَرَطُ لِصِحَّتِهَا) سَبْعَةُ أَشْيَاءَ: الْأَوَّلُ: (الْمِصْرُ وَهُوَ مَا لَا يَسَعُ أَكْبَرُ مَسَاجِدِهِ أَهْلَهُ الْمُكَلَّفِينَ بِهَا) وَعَلَيْهِ فَتْوَى….(أَوْ فِنَاؤُهُ) بِكَسْرِ الْفَاءِ (وَهُوَ مَا) حَوْلَهُ (اتَّصَلَ بِهِ)أولا….أَلَا تَرَى أَنَّ فِي الْجَوَاهِرِ لَوْ صَلَّوْا فِي الْقُرَى لَزِمَهُمْ أَدَاءُ الظُّهْرِ.
(الجمعة،ص:137،ج:2،ط: دارالفكر)
وفي درر الاحكام:
(أَوْ فِنَاؤُهُ) عَطْفٌ عَلَى الْمِصْرِ وَالضَّمِيرُ لَهُ (وَهُوَ مَا اتَّصَلَ بِهِ) أَيْ الْمِصْرِ (مُعَدٌّ لِمَصَالِحِهِ) كَرَكْضِ الدَّوَابِّ وَجَمْعِ الْعَسْكَرِ وَالْخُرُوجِ لِلرَّمْيِ وَدَفْنِ الْمَوْتَى وَصَلَاةِ الْجِنَازَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ (قَوْلُهُ أَوْ فِنَاؤُهُ) أَقُولُ إنَّمَا لَمْ يَقُلْ كَالْقُدُورِيِّ أَوْ مُصَلَّاهُ؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ مَقْصُورٍ عَلَيْهِ بَلْ جَمِيعُ أَفْنِيَةِ الْمِصْرِ كَالْمِصْرِ.
(الجمعة،ص:136،ج:1،ط: دار إحياء الكتب العربية)
وفي النهر الفائق:
(أو مصلاه) أي: فناءه، وهو المكان المعد لصالح المصر، متصل به أو منفصل عنه بغلوة كذا قرره محمد في (النوادر) وشرط بعضهم عدم الفاصل من مزرعة، واختاره في (الخانية) قال: والميل والغلوة والأميال ليس بشيء كذا روي عن الإمام، وقدره بعضهم بميلين، قال في (المحيط): وعليه الفتوى، وآخرون بثلاثة أميال،
قال الولوالجي: وهو المختار للفتوى،
(صلاة الجمعة،ص:352،ج:1،ط: دار الكتب العلمية)
وفي البناية:
يجوز صلاة الجمعة والعيدين في فناء المصر، وهو أن يكون على قدر غلوة متصلا بربض المصر….وقال شمس الأئمة الحلواني في "نوادره": اختلفوا في فناء المصر وتقدير الحد فيه، فقدره محمد هاهنا بغلوة، وبعضهم بفرسخ، وبعضهم بفرسخين، وبعضهم بمنتهى حد صوت مؤذنهم إذا أذن، كذا في " تتمة الفتاوى "
(صلاة الجمعة في القري،ص:47،ج:3،ط: دار الكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔