سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-580 Fatwa no: 1448-580

بٹل شہر میں پٹياں گاؤں کو داخل کر کے اس ميں نماز جمعہ کا ادا کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بٹل شہر سے پٹیاں نامی گاؤں کا فاصلہ تقریباً 7 کلو میٹر ہے بٹل سے سی پیک چنار کوٹ اسٹاپ کا فاصلہ 5سے 6کلومیٹر کے درمیان ہے اور اس کے درمیان میں تین گاؤں مرید آباد،شارکا ،اور سکر کوٹ واقع ہیں بٹل شہر سے سی پیک چنار کوٹ اسٹاپ تک ان گاؤں کے درمیان مختلف جنگل ،خالی کھیت اور برساتی نالے (کسی) اور وادیاں بھی واقع ہیں سی پیک چنار کوٹ اسٹاپ پر چنارکوٹ ٹول پلازہ بھی واقع ہے اور اس اسٹاپ کے جنوب مشرق میں گاؤں پٹیاں واقع ہے چنارکوٹ اسٹاپ اور گاؤں پٹیاں کے درمیان کا فاصلہ تقریباً ایک کلو میٹر ہے جو ایک بڑی ندی اور زیادہ تر حصہ جنگل ،برساتی نالوں (کسی) پر مشتمل ہے بٹل شہر کی اصل سڑک شاہراہ ریشم ہے جو اسے شنکیاری اور بٹگرام سے ملاتی ہے اس پر ہر قسم کی گاڑی چلتی ہے ،البتہ شاہراہ ریشم پر بٹل سے تین کلو میٹر کے بعد ایک پرانا بنک روڑ ہے جو اب سی پیک سے جا ملتا ہے اس روڑ پر ہیوی ٹرک،بڑے ٹرالے وغیرہ نہیں جل سکتے ،خلاصہ یہ ہے کہ گاؤں پٹیاں اور شہر بٹل کے درمیان کئی جنگلات ،برساتی نالے (کسیاں) خالی کھیت، وادیاں ،بڑی ندی اور سی پیک سڑک پر چنار کوٹ ٹول پلازہ اور چنار کوٹ اسٹاپ واقع ہے ،واضح رہے کہ سی پیک سڑک ایکسپریس روڑ ہے نہ کہ موٹر وے اور اس پر جو ٹول پلازہ اور اسٹاپ ہے وہ چنارکوٹ ٹول پلازہ اور چنار کوٹ اسٹاپ کہلاتا ہے نہ کہ بٹل، ٹول پلازے کے بعد یہاں شاہراہ ریشم سے تین سڑکیں آکرملتی ہیں اور یہ بات بھی واضح رہے کہ بٹل اور پٹیاں کے درمیان کسی بھی گاؤں میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاتی ہے ،حتی کہ پٹیاں کے قریب چنارکوٹ گاؤں میں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی جاتی،اب پوچھنا یہ کہ گاؤں پٹیاں کو بٹل شہر کی فناء میں شمار کر کے اس میں جمعہ جاری کرنا جائز ہے یا نہیں ،اگر کچھ لوگ جمعہ شروع کر دیں توا س دن کی ظہر کی نماز کا کیا حکم ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر ہو گی؟
جواب :

شہر کی فناء کا دارومدار اس بات پر ہے  کہ  وہ جگہ  شہر  کے مصالح اور ضروریات کے لیے مستعمل ہو چاہے وہ شہر کے ساتھ متصل ہو یا نہ ہو  جیسےشہر کے  باہر جنازہ گاه  ہوناشہر کے مصالح اور ضروریات  میں شامل ہےاس کوشہر کی فناء میں داخل کیا جاسکتا ہے ،جبکہ صورت مسئولہ میں پٹیاں نامی گاؤں  جو بٹل شہر سے تقریباً 7 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اس کا  بٹل شہر کے مصالح  اور ضروریات سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک مستقل آبادی  ہے اور اس کو بٹل کے نام سے نہیں پہچانا جاتا؛اس لیے اس گاؤں  کو  بٹل شہر کی فناء میں داخل کر کے اس کے اندر جمعہ  کی نماز جاری کرنادرست نہیں اور جو لوگ وہاں پر جمعہ   شروع کریں  ان  کی نماز نہیں ہوگی اور نہ ہی ان  لوگوں کی نماز ہو گی جو ان کی وجہ سے جمعہ  پڑھے گے،بلکہ ان کے ذمہ ظہر کی نماز باقی رہے گی۔
كما في الدر المختار مع ردالمحتار:
(وَيُشْتَرَطُ لِصِحَّتِهَا) سَبْعَةُ أَشْيَاءَ: الْأَوَّلُ: (الْمِصْرُ وَهُوَ مَا لَا يَسَعُ أَكْبَرُ مَسَاجِدِهِ أَهْلَهُ الْمُكَلَّفِينَ بِهَا) وَعَلَيْهِ فَتْوَى….(أَوْ فِنَاؤُهُ) بِكَسْرِ الْفَاءِ (وَهُوَ مَا) حَوْلَهُ (اتَّصَلَ بِهِ)أولا….أَلَا تَرَى أَنَّ فِي الْجَوَاهِرِ لَوْ صَلَّوْا فِي الْقُرَى لَزِمَهُمْ أَدَاءُ الظُّهْرِ.
(الجمعة،ص:137،ج:2،ط: دارالفكر)
وفي درر الاحكام:
(أَوْ فِنَاؤُهُ) عَطْفٌ عَلَى الْمِصْرِ وَالضَّمِيرُ لَهُ (وَهُوَ مَا اتَّصَلَ بِهِ) أَيْ الْمِصْرِ (مُعَدٌّ لِمَصَالِحِهِ) كَرَكْضِ الدَّوَابِّ وَجَمْعِ الْعَسْكَرِ وَالْخُرُوجِ لِلرَّمْيِ وَدَفْنِ الْمَوْتَى وَصَلَاةِ الْجِنَازَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ (قَوْلُهُ أَوْ فِنَاؤُهُ) أَقُولُ إنَّمَا لَمْ يَقُلْ كَالْقُدُورِيِّ أَوْ مُصَلَّاهُ؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ مَقْصُورٍ عَلَيْهِ بَلْ جَمِيعُ أَفْنِيَةِ الْمِصْرِ كَالْمِصْرِ.
(الجمعة،ص:136،ج:1،ط: دار إحياء الكتب العربية)
وفي النهر الفائق:
(أو مصلاه) أي: فناءه، وهو المكان المعد لصالح المصر، متصل به أو منفصل عنه بغلوة كذا قرره محمد في (النوادر) وشرط بعضهم عدم الفاصل من مزرعة، واختاره في (الخانية) قال: والميل والغلوة والأميال ليس بشيء كذا روي عن الإمام، وقدره بعضهم بميلين، قال في (المحيط): وعليه الفتوى، وآخرون بثلاثة أميال، 
قال الولوالجي: وهو المختار للفتوى،
(صلاة الجمعة،ص:352،ج:1،ط: دار الكتب العلمية)
وفي البناية:
يجوز صلاة الجمعة والعيدين في فناء المصر، وهو أن يكون على قدر غلوة متصلا بربض المصر….وقال شمس الأئمة الحلواني في "نوادره": اختلفوا في فناء المصر وتقدير الحد فيه، فقدره محمد هاهنا بغلوة، وبعضهم بفرسخ، وبعضهم بفرسخين، وبعضهم بمنتهى حد صوت مؤذنهم إذا أذن، كذا في " تتمة الفتاوى "
(صلاة الجمعة في القري،ص:47،ج:3،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 10 Aug 2026