سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-58 Fatwa no: 1447-58

بغیر قبضہ کے ہبہ تام نہیں ہوتا

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہم دو بھائیوں کا مشترکہ گھر ہے جو ہمیں وراثت میں ملا ہے والد صاحب نے   سرکاری فیس کی بچت کے لئے مکان کی رجسٹری دو حصوں یعنی 8مرلے اور 9مرلے میں  الگ الگ کی تھی، لیکن تقسیم کے وقت مکان کے بارے میں والد صاحب نے یہ کہا کہ یہ آپ دونوں بھائیوں کا ہے۔اب وہ مکان کرایہ پر دیا گیا ہے، تو آیا اس کا کرایہ دونوں بھائیوں کو آدھا آدھا ملے گا  یا جس کے نام جتنے مرلے کی رجسٹری ہوئی ہے اس کے بقدر ہر ایک کرایہ لے گا،اسی طرح اگر اس مکان  کوفروخت کرنا ہوا تو اس کی رقم دونوں بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگی یا پھر جس کے نام جتنے مرلے کی رجسٹری ہوئی ہے اس کے بقدر ہر ایک رقم لے گا۔
تنقیح:مذکورہ گھر والد صاحب  نے اپنی زندگی ہی میں کرایہ پر دیا  تھا اور اب بھی کرایہ پر ہے، انہوں نے زندگی میں یہ گھر ہمارے قبضہ میں نہیں دیا تھا، صرف ہمارے نام رجسٹری کرائی تھی، اور گھر کا کرایہ گوداموں کی تعمیر میں لگاتے تھے، البتہ گھر کی رجسٹری ہمارے نام کراکر تمام کاغذات ہمارے حوالے کردیئے تھے۔

جواب :

واضح رہے کہ جائیداد  وغیرہ کسی کے نام کرانے سے وہ اس کا مالک نہیں بنتا  جب تک کہ اس پر اس کو مکمل قبضہ اور اختیار نہ دیا جائے ۔
بصورت مسؤلہ والد نے مذکورہ گھر صرف آپ  دونوں کے نام کیا تھا، لیکن اس پرقبضہ اور تصرف کا اختیار نہیں دیاتھا،  اس لئے اس کا کرایہ آپ سب بھائی ، بہنوں کے درمیان میراث کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا، اسی طرح اگر مذکورہ گھر  بیچا گیا تو اس کی رقم بھی سارے  بھائی بہنوں میں  میراث کے حصوں کے مطابق تقسیم ہونگی۔
كما في الدر المختار:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.
(كتاب الهبة، ج:5، ص:690، ط:دارالفكر)
و في الهندية:
رجل وهب لرجل متاعا ثم قال: إنما كنت استودعتك فالقول قول صاحب المتاع مع يمينه وإذا حلف أخذ المتاع فإن وجده هالكا فإن كان هلك بعدما ادعى المستودع الهبة فالمستودع ضامن لقيمته، وإن كان الهلاك قبل دعوى الهبة فلا ضمان، كذا في المحيط.
(كتاب الهبة،الباب التاسع،ج:4،ص:398،ط:دارالفكر)
وفي رد المحتار:
قوله ( فلم تتم الهبة ) يعني لو وجد الإيجاب والقبول ثم امتنع عن التسليم فإنه لا يسمى 
رجوعا لأن الهبة لم تتم فلم يخرج الموهوب عن ملك واهبه فلا يقال إن له رجوعا فيه ولا فرق بين ذي الرحم والزوجين وغير ذلك والظاهر أنها لا تخلو عن الكراهة لأنها لا تنزل عن الوعد بل هي فوقه.
(كتاب الهبة، ج:8، ص:462 ، ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب