نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمیراث مرنے کے بعد تقسیم ہوتی ہے زندہ کی جائیداد میراث میں تقسیم نہیں ہوتی ،مذکورہ صورت میں بھی چونکہ پھوپھی ابھی زندہ ہیں اس لیے اس کی جائیداد تقسیم نہیں کی جائے گی،البتہ دوران زندگی پھوپھی اپنی ملکیت میں جس طرح جائز تصرف کرنا چاہے کرسکتی ہے ،تاہم اگر پھوپھی فوت ہوجائے تو بھتیجوں کو میراث میں سے حصہ ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ اس وقت پھوپھی کے زندہ ورثاء کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
کمافي بدائع الصنائع:
الْمَالِكُ لِلشَّيْءِ هُوَ الَّذِي يَتَصَرَّفُ فِيهِ بِاخْتِيَارِهِ وَمَشِيئَتِهِ،
(شرووط لزوم النكاح،ص:327،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الهداية:
الهبة عقد ...وتصح بالإيجاب ...والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك
(كتاب الهبة،ج:3،ص:224،ط: المكتبة الإسلامية)
وفي الدرالمختار:
وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، أَوْ تَقْدِيرًا كَجَنِينٍ فِيهِ غُرَّةٌ وَوُجُودُ وَارِثِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ حَيًّا حَقِيقَةً أَوْ تَقْدِيرًا كَالْحَمْلِ وَالْعِلْمِ بِجِهَةِ إرْثِهِ، …..بَيَانُهُ أَنَّ شَرْطَ الْإِرْثِ وُجُودُ الْوَارِثِ حَيًّا عِنْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ.
(كتاب الفرائض،ص:758،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوی الهندية:
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب
(العصبات،ص:451،ج:6،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 11 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔