سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-582 Fatwa no: 1448-582

پهوپهی سے بھتیجوں كو ميراث ملنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پھوپھی کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے اور اس کے علاوہ اس (پھوپھی) کے بھتیجے بھی ہیں پھوپھی ،پھوپھا ا بھی زندہ ہیں ان کا بیٹا فوت ہو گیا ہے اب پوچھنا یہ ہے کیا پھوپھی سے بھتیجوں کو میراث ملتی ہے ؟ تنقیح: پھوپھی کے دوبھائیوں میں سے ایک ابھی زندہ ہے اور دوسرا فوت ہوچکا ہے اس کے چار بیٹے ہیں
جواب :

میراث    مرنے کے بعد تقسیم ہوتی ہے زندہ کی جائیداد  میراث میں تقسیم نہیں  ہوتی ،مذکورہ صورت میں بھی چونکہ پھوپھی   ابھی زندہ ہیں  اس لیے  اس کی جائیداد تقسیم نہیں کی جائے گی،البتہ  دوران زندگی پھوپھی اپنی ملکیت میں  جس طرح جائز تصرف کرنا چاہے  کرسکتی ہے ،تاہم اگر پھوپھی فوت ہوجائے تو  بھتیجوں کو میراث  میں سے حصہ ملنے یا نہ ملنے  کا فیصلہ اس وقت پھوپھی کے زندہ ورثاء   کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
کمافي بدائع الصنائع:
الْمَالِكُ لِلشَّيْءِ هُوَ الَّذِي يَتَصَرَّفُ فِيهِ بِاخْتِيَارِهِ وَمَشِيئَتِهِ،
(شرووط لزوم النكاح،ص:327،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الهداية:
الهبة عقد ...وتصح بالإيجاب ...والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك
(كتاب الهبة،ج:3،ص:224،ط: المكتبة الإسلامية)
وفي الدرالمختار:
وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، أَوْ تَقْدِيرًا كَجَنِينٍ فِيهِ غُرَّةٌ وَوُجُودُ وَارِثِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ حَيًّا حَقِيقَةً أَوْ تَقْدِيرًا كَالْحَمْلِ وَالْعِلْمِ بِجِهَةِ إرْثِهِ، …..بَيَانُهُ أَنَّ شَرْطَ الْإِرْثِ وُجُودُ الْوَارِثِ حَيًّا عِنْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ.
(كتاب الفرائض،ص:758،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوی الهندية:
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب
(العصبات،ص:451،ج:6،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 11 Aug 2026