سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-583 Fatwa no: 1448-583

تابوت میں دفن کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کو تابوت میں دفن کرنا بہتر ہے یا بغیر تابوت کے ،نیزعورت اور مرد دونوں کاحکم اس مسئلہ میں ایک جیسا ہے یا کوئی فرق ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ بغیر عذر کے تابوت میں  مرد کو دفن کرنا مکروہ ہے اور عذر کی حالت میں( جیسےزمین  نرم ہو،قبر کی مٹی گرنے کا خطرہ ہو) دفن کرنا جائز ہے،البتہ عورت کو تابوت میں  دفن کرنا مستحب ہے؛ اس لیے کہ اس میں عورت کے لیے پردہ زیادہے۔
الدرالمختار:
(ولا بأس باتخاذ تابوت) ولو من حجر أو حديد (له عند الحاجة) كرخاوة الأرض.....(قوله: ولا بأس باتخاذ تابوت إلخ) أي يرخص ذلك عند الحاجة، وإلا كره... (قوله له) أي للميت كما في البحر أو للرجل، ومفهومه أنه لا بأس للمرأة مطلقا... وفي المحيط: واستحسن مشايخنا اتخاذ التابوت للنساء، يعني ولو لم تكن الأرض رخوة فإنه أقرب إلى الستر والتحرز عن مسها عند الوضع في القبر
(دفن الميت،۲۳۴/۲،دارالفکر)
بدائع الصنائع:
يُجَوِّزُ دُفُوفَ الْخَشَبِ وَاِتِّخَاذَ التَّابُوتِ لِلْمَيِّتِ حَتَّى قَالَ: لَوْ اتَّخَذُوا تَابُوتًا مِنْ حَدِيدٍ لَمْ أَرَ بِهِ بَأْسًا فِي هَذِهِ الدِّيَارِ.
(سنة الحفر،۳۱۸/۱،دار الكتب العلمية)
الفقه الاسلامی:
الدفن في التابوت....هو من سنة النصارى.. قال الحنفية: لا بأس باتخاذ التابوت ولو من حجر أو حديد للميت عند الحاجة كرخاوة الأرض، وكونها ندية، أو لميت البحر،أو للمرأة مطلقاً.
(الدفن في التابوت،۱۵۶۷/۲،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 11 Aug 2026