نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںقرآن پاک جس ترتیب سے مرتب کیا گیا ہے اس ترتیب پر صحابہ کا اجماع ہے ؛اس لیے اسی ترتیب پر قرآن مجید کو پڑھنا چاہیے ،البتہ کسی مجبوری کی وجہ سےخلاف ترتیب قرآن مجید پڑھ کر مکمل کرنا بهی درست ہےبصورت مسئولہ اگر تراویح کسی مسجد وغیرہ میں ہے تو پھر ترتیب ہی سے پڑھائی جائے،لیکن اگر بچےوغیرہ آپس میں قران سناتے ہیں جس میں سے بعض کو شروع والے پارے یاد ہیں اور بعض کو آخر والے پارے تو اس صورت میں خلاف ترتیب قران ختم کرنا درست ہے،لیکن بہتر یہ ہے کہ جس ترتیب سے قرآن مجید ہمارے سامنے مرتب ہے اسی ترتیب کا لحاظ رکھتے ہوئےقرآن مجید پڑھنےکی کوشش کی جائے۔
كمافي الدرالمختارمع ردالمحتار:
لو قرأ من محلين ، بأن انتقل من آية إلى أخرى من سورة واحدة لا يكره إذا كان بينهما آيتان فأكثر ، لكن الأولى أن لا يفعل بلا ضرورة
(مطلب الاستماع للقرآن ،ص:201،ج:4،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَالْخَتْمُ) مَرَّةً سُنَّةٌ وَمَرَّتَيْنِ فَضِيلَةٌ وَثَلَاثًا أَفْضَلُ. (وَلَا يُتْرَكُ) الْخَتْمُ (لِكَسَلِ الْقَوْمِ)
(مبحث صلاة التراويح،ص:46،45،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
والأفضل أن يصلي التراويح بإمام واحد فإن صلوها بإمامين فالمستحب أن يكون انصراف كل واحد على كمال الترويحة فإن انصرف على تسليمة لا يستحب ذلك في الصحيح
(التراويح،ص:116،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي تبيين الحقائق:
لِأَنَّ السُّنَّةَ فِيهَا الْخَتْمُ مَرَّةً وَهُوَ يَحْصُلُ بِذَلِكَ مَعَ التَّخْفِيفِ لِأَنَّ عَدَدَ رَكَعَاتِ التَّرَاوِيحِ فِي الشَّهْرِ سِتُّمِائَةِ رَكْعَةٍ وَعَدَدُ آيِ الْقُرْآنِ سِتَّةُ آلَافِ آيَةٍ وَشَيْءٌ فَإِذَا قَرَأَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ عَشْرًا يَحْصُلُ الْخَتْمُ وَلَا يَتْرُكُ الْخَتْمَ مَرَّةً لِكَسَلِ الْقَوْمِ
(باب الوتر والنوافل،ص:179،ج:1،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 11 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔