سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-585 Fatwa no: 1448-585

تراويح ميں دو پارے الگ الگ مقام سے پڑھ کر قرآن ختم کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تراويح ميں اس طرح ختم كرنا كہ روزانہ ایک پارہ شروع سے پڑھنا اور ایک پارہ سولہ او ر سترہ سے پڑھنا کیسا ہے کیا اس طرح ختم قرآن ہو جاتا ہے ؛کیونکہ طلباء میں بعض کو شروع پارے اور بعض کو آخر والے پارےملتے ہیں ؟
جواب :

قرآن پاک جس ترتیب سے مرتب کیا گیا ہے اس ترتیب پر صحابہ کا  اجماع  ہے ؛اس لیے اسی ترتیب پر قرآن مجید کو پڑھنا چاہیے ،البتہ  کسی مجبوری کی وجہ سےخلاف ترتیب  قرآن مجید   پڑھ کر مکمل کرنا بهی درست ہےبصورت مسئولہ اگر تراویح  کسی مسجد وغیرہ  میں ہے تو پھر ترتیب ہی سے پڑھائی جائے،لیکن اگر بچےوغیرہ آپس میں  قران سناتے ہیں جس میں سے بعض کو شروع والے پارے یاد ہیں  اور بعض کو  آخر والے پارے  تو اس صورت میں خلاف ترتیب قران ختم کرنا درست ہے،لیکن بہتر یہ  ہے کہ    جس ترتیب سے قرآن مجید ہمارے سامنے مرتب ہے  اسی ترتیب  کا لحاظ رکھتے ہوئےقرآن مجید پڑھنےکی کوشش کی جائے۔
كمافي الدرالمختارمع ردالمحتار:
لو قرأ من محلين ، بأن انتقل من آية إلى أخرى من سورة واحدة لا يكره إذا كان بينهما آيتان فأكثر ، لكن الأولى أن لا يفعل بلا ضرورة
(مطلب الاستماع للقرآن ،ص:201،ج:4،ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:
(وَالْخَتْمُ) مَرَّةً سُنَّةٌ وَمَرَّتَيْنِ فَضِيلَةٌ وَثَلَاثًا أَفْضَلُ. (وَلَا يُتْرَكُ) الْخَتْمُ (لِكَسَلِ الْقَوْمِ)
(مبحث صلاة التراويح،ص:46،45،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
والأفضل أن يصلي التراويح بإمام واحد فإن صلوها بإمامين فالمستحب أن يكون انصراف كل واحد على كمال الترويحة فإن انصرف على تسليمة لا يستحب ذلك في الصحيح 
(التراويح،ص:116،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي تبيين الحقائق:
لِأَنَّ السُّنَّةَ فِيهَا الْخَتْمُ مَرَّةً وَهُوَ يَحْصُلُ بِذَلِكَ مَعَ التَّخْفِيفِ لِأَنَّ عَدَدَ رَكَعَاتِ التَّرَاوِيحِ فِي الشَّهْرِ سِتُّمِائَةِ رَكْعَةٍ وَعَدَدُ آيِ الْقُرْآنِ سِتَّةُ آلَافِ آيَةٍ وَشَيْءٌ فَإِذَا قَرَأَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ عَشْرًا يَحْصُلُ الْخَتْمُ وَلَا يَتْرُكُ الْخَتْمَ مَرَّةً لِكَسَلِ الْقَوْمِ
(باب الوتر والنوافل،ص:179،ج:1،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 11 Aug 2026