سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-586 Fatwa no: 1448-586

تراویح میں بلند آواز سے بسم اللہ کا پڑھنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تراویح کے اندر ایک دفعہ قرآن پڑھنے کی سنت مکمل کرنے کے لیے ایک دفعہ" بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کو بلند آواز سے پڑھتے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا جز ہےیا ہر ہر سورت کا ،اگر قرآن کا جز ہے تو سورۃ نمل میں بسم اللہ کے الفاظ موجود ہیں وہ قرآن کا جز ہے تو علیحدہ سے بسم اللہ پڑھنے کی کیا ضرورت ہے کیا یہ قرآن پر زیادتی نہیں ہے؟
جواب :

قرآن مجید میں سورۃ نمل میں جو "بسم اللہ " مذکور ہے وہ قرآن کے جز کے ساتھ سورۃ نمل کی ایک مستقل آیت بھی ہے ،جبکہ اس کے علاوہ قرآن مجید  میں  ہر سورت  سے پہلے جو بسم اللہ مذکور ہے وہ کسی بھی سورۃ  کی مستقل آیت نہیں ہے ،بلکہ سوہ سورتوں کے درمیان فصل کے لیے لائی گئی ہے ،البتہ وہ قرآن کا مطلقاًجز ہے ؛اس لیے  سورۃنمل کی آیت کو تراویح میں بلند آواز سے پڑھنےسے   یہ آیت تو ادا ہو جائی گی ،لیکن جو بسم اللہ قرآن کا مطلقاً جز  ہے وہ اس سور ہ نمل کی آیت سے ادا نہیں ہو گا ،لہذا صورت مسئولہ میں سورۃ نمل کی"   بسم اللہ " کے علاوہ  جو بسم اللہ ہے اس  کا  تراویح میں  ایک دفعہ بلند آواز سے پڑھناضروری ہے اگر وہ   ایک دفعہ  بلند آواز سے نہ پڑھے تو تراويح ميں   قرآن كی سنت  کامل نہیں ہو گی ۔
كمافي التبيين الحقائق:
(وَهِيَ آيَةٌ مِنْ الْقُرْآنِ أُنْزِلَتْ لِلْفَصْلِ بَيْنَ السُّوَرِ لَيْسَتْ مِنْ الْفَاتِحَةِ وَلَا مِنْ كُلِّ سُورَةٍ) أَيْ الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ الْقُرْآنِ لَيْسَتْ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ وَلَا مِنْ آخِرِهَا وَإِنَّمَا أُنْزِلَتْ لِلْفَصْلِ.
(فصل الشروع  فی الصلاة،ص:112،ج:1،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفي البحرالرائق:
(آيَةٌ) إلَى أَنَّهَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ وَاحِدَةٌ يُفْتَحُ بِهَا كُلُّ سُورَةٍ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ آيَاتٌ فِي السُّورَةِ وَالْخِلَافُ فِي غَيْرِ الْبَسْمَلَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ النَّمْلِ
(آداب الصلاة،ص:331،ج:1،ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي مجمع الانهر:
(وَهِيَ) أَيْ الْبَسْمَلَةُ (آيَةٌ مِنْ الْقُرْآنِ أُنْزِلَتْ لِلْفَصْلِ بَيْنَ السُّوَرِ لَيْسَتْ مِنْ الْفَاتِحَةِ، وَلَا مِنْ كُلِّ سُورَةٍ) بَيَانٌ لِلْأَصَحِّ مِنْ الْأَقْوَالِ وَفِيهِ رَدٌّ عَلَى مَنْ يَقُولُ إنَّهَا لَيْسَتْ بِآيَةٍ فِي غَيْرِ سُورَةِ النَّمْلِ
(صفةالشروع،ص:95،ج:1،ط: دار إحياء التراث العربی)
وفي الفتاوی المحمودية: 
لو قرا تمام القرآن في التراويح،ولم يقرا البسملة في ابتداء سورة من السور سوی ما في سورۃ النمل،لم يخرج عند عهدة السنية،ولو قرأها الإمام سر خرج عن العهدة،لكن لم  يخرج المقتدون عن العهدة.
(التراويح،ص:302،ج:7،ط:كراچی)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 11 Aug 2026