نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ نماز میں كسی واجب کو چھوڑنے یا اس کے اندر کمی ،زیادتی کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر كسی شخص نےآخری رکعت کے قاعدہ میں( التحیات سے پہلے) سورۃ فاتحہ اوردوسری سورۃ پڑھ لی پھر یا د آنے پر اس نے التحیات شروع کر دی تو اس پر (سورت فاتحہ اور دوسری سورت کی زیادتی کی وجہ سے) سجدہ سہو لازم ہوگا،نیز اگر التحیات پوری(درود اور دعا) پڑھنے کے بعد سجدہ سہو کیا تو سجدہ سہو کے بعد تشہدمیں از سر نو دوبارہ التحیات پڑھنی ہو گی ،تاہم التحیات کے پڑھنے کے بعد درود اور دعا پڑھنا بہتر ہے ۔
الهندية:
وإذا قرأ الفاتحة مكان التشهد فعليه السهو وكذلك إذا قرأ الفاتحة ثم التشهد كان عليه السهو كذا روي عن أبي حنيفة رحمه الله في الواقعات الناطفية وذكر هناك إذا بدأ في موضع التشهد بالقراءة ثم تشهدفعليه السهو
( في سجود السهو،ص:274،ج:1،ط:رشيدية)
الهداية:
( يسجد للسهو في الزيادة والنقصان سجدتين بعد السلام ثم يتشهد ثم يسلم )۔۔۔۔ ويأتي بالصلاة على النبي عليه الصلاة والسلام والدعاء في قعدة السهو هو الصحيح لأن الدعاء موضعه آخر الصلاة.
(باب سجود السهو،ص:164،ج:1، ط:الحسن)
الدر المختار مع رد المحتار:
( يجب بعد سلام واحد عن يمينه فقط ) لأن ه المعهود وبه يحصل التحليل وهو الأصح …. وعليه لو أتى بتسليمتين سقط عنه السجود ولو سجد قبل السلام جاز وكره تنزيها ( سجدتان و ) يجب أيضا ( تشهد وسلام ) لأن سجود السهو يرفع التشهد۔۔۔ ويأتي بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء في القعود الأخير في المختار.
(باب سجود السهو،ص:78،ج:2،ط:سعيد)
الفقه الاسلامي:
مذهب الحنفية:يسجد للسهو بترك شيء عمداً أو سهواً، أو زيادة شيء سهواً، أو تغيير محله سهواً ،۔۔۔۔الخامس ـ ترك التشهد في القعدة الأخيرة.
(أسباب سجدةالسهو،ص93،ج:2،ط:رشيدية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 12 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔