سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-589 Fatwa no: 1448-589

گرمی کی وجہ سے مسجد کی تہہ خانے میں باجماعت نماز کا ادا کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبا رے میں کہ ہماری دو منزلہ مسجد ہےبیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور، پانچ وقتہ نماز جماعت کے ساتھ اوپر والی منزل میں ادا کی جاتی ہے جمعہ کی نماز بھی اسی منزل میں ادا کی جاتی ہے مستقل ممبرو محراب اسی منزل میں بنے ہوئے ہیں ،اب سوال یہ ہے کہ چونکہ گرمی کی وجہ سے اس منزل میں نماز ادا کرنا مشکل ہوتا ہے بعض نمازی ساتھیوں کی خواہش ہے کہ ہم بیسمنٹ میں جماعت کی نماز ادا کریں ؛تاکہ گرمی سے محفوظ ہو ،جبکہ ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ جب اوپر والی منزل میں ممبر ومحراب بن گیا ہے اب مستقلاً یہی جماعت کی نماز ہو گی کہیں اور جماعت کی نماز ادا کرنا جائز نہیں ،کیا اس گرمی کے موسم میں مسجد کے بیسمنٹ میں جماعت کرنا شرعاً ممنوع ہے رہنمائی فرمائیں؟
جواب :

مسجد میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ وہ تحت الثری سے لے کر آسمان تک مسجد شمار ہوتی ہے،البتہ اگر واقف کسی جگہ کو شروع ہی سے مستثنی کر دے تو اس  جگہ کو مسجد میں شمار نہیں کیا جاتا ،لہذا صورت مسئولہ میں  اگر مسجد تعمیر کرنے والے(واقف) نے شروع ہی سے  مسجد کی زیریں   منزل(تہہ خانہ) کو    بھی مسجد کے طور پر    بنا یا ہے تو یہ تہہ خانہ بھی مسجد میں شامل ہے اور  گرمی کی وجہ سے اس میں جماعت سے نماز کا ادا کرنا  بالکل درست ہے اور اگر تہہ خانے کو مسجد  کے  علاوہ کسی دوسری غرض سےبنایا  ہے تو مسجد کو چھوڑ کر اس میں باجماعت  نماز  ادا کرنا درست نہیں  ہو گا۔
كما في البحر الرائق:
وَإِذَا جَعَلَ تَحْتَهُ سِرْدَابًا لِمَصَالِحِهِ) أَيْ الْمَسْجِدِ (جَازَ) كَمَسْجِدِ الْقُدْسِ(وَلَوْ جَعَلَ لِغَيْرِهَا أَوْ) جَعَلَ (فَوْقَهُ بَيْتًا وَجَعَلَ بَابَ الْمَسْجِدِ إلَى طَرِيقٍ وَعَزَلَهُ عَنْ مِلْكِهِ لَا) يَكُونُ مَسْجِدًا …..قَالَ فِي الْبَحْرِ: وَحَاصِلُهُ أَنَّ شَرْطَ كَوْنِهِ مَسْجِدًا أَنْ يَكُونَ سِفْلُهُ وَعُلُوُّهُ مَسْجِدًا لِيَنْقَطِعَ حَقُّ الْعَبْدِ عَنْهُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ}
(فَرْعٌ بِنَاء بيتا لِلْإِمَامِ فَوْق الْمَسْجِد،ص:358،ج:4،ط: دار الفكر)
وفي تبيين الحقائق:
(وَمَنْ جَعَلَ مَسْجِدًا تَحْتَهُ سِرْدَابٌ أَوْ فَوْقَهُ بَيْتٌ وَجَعَلَ بَابَهُ إلَى الطَّرِيقِ وَعَزَلَهُ أَوْ اتَّخَذَ وَسَطَ دَارِهِ مَسْجِدًا وَأَذِنَ لِلنَّاسِ بِالدُّخُولِ فَلَهُ بَيْعُهُ وَيُورَثُ عَنْهُ) لِأَنَّهُ لَمْ يَخْلُصْ لِلَّهِ لِبَقَاءِ حَقِّ الْعَبْدِ فِيهِ وَالْمَسْجِدُ لَا يَكُونُ إلَّا خَالِصًا لِلَّهِ لِمَا تَلَوْنَا وَمَعَ بَقَاءِ حَقِّ الْعَبْدِ فِي أَسْفَلِهِ أَوْ فِي أَعْلَاهُ أَوْ فِي جَوَانِبِهِ مُحِيطًا بِهِ لَا يَتَحَقَّقُ الْخُلُوصُ كُلُّهُ أَمَّا إذَا كَانَ السُّفْلُ مَسْجِدًا فَلِأَنَّ لِصَاحِبِ الْعُلُوِّ حَقًّا فِي السُّفْلِ حَتَّى لَا يَكُونَ لِصَاحِبِ السُّفْلِ أَنْ يُحْدِثَ فِيهِ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ رِضَا صَاحِبِ الْعُلُوِّ وَأَمَّا إذَا جَعَلَ الْعُلُوَّ مَسْجِدًا فَلِأَنَّ أَرْضَ الْعُلُوِّ مِلْكٌ لِصَاحِبِ السُّفْلِ وَلَيْسَ لَهُ مِنْ التَّصَرُّفَاتِ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ رِضَا صَاحِبِ السُّفْلِ كَالْبِنَاءِ وَغَيْرِهِ بِخِلَافِ مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَإِنَّ السِّرْدَابَ فِيهِ لَيْسَ بِمَمْلُوكٍ لِأَحَدٍ بَلْ هُوَ لِمَصَالِحِ الْمَسْجِدِ
(فصل من بني مسجد،ص:330،ج:3،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفي الموسوعة الفقيهة:
وَالْمَسَاجِدُ هِيَ أَحَبُّ الْبِقَاعِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فِي الأْرْضِ وَهِيَ بُيُوتُهُ الَّتِي يُوَحَّدُ فِيهَا وَيُعْبَدُ، يَقُول سُبْحَانَهُ: {فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ} ،
(بِنَاءُ الْمَسَاجِدِ وَعِمَارَتُهَا وَوَظَائِفُهَا،ص:228،ج:37،ط: دارالسلاسل)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 12 Aug 2026