سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-590 Fatwa no: 1448-590

دو تولہ سونا اورکچھ نقد رقم پر قربانی کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کے پاس تین سے زائد سوٹ پڑے ہوئے ہیں یعنی گرمی اور سردیوں کے ملا کر تین سے زائد سوٹ ہیں اور اس کے پاس دو تولے سونا موجود ہےاور ساتھ میں کچھ نقد رقم بھی ہے یعنی ہزار یا پندرہ سو اب آیا اس پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟
جواب :

بصورت مسئولہ جن بعض حضرات نے تین سےزائد کپڑوں کو ضرورت سےزائد شمار کیا ہےان کے قول کا اعتبار نہیں، بلکہ جمہور علماء کایہ کہنا ہےکہ  حالات کی تبدیلی کی صورت میں چیزوں کی   تعداد اوراستعمال میں فرق آجاتا ہے؛اس لیے اب  تین سے زائد کپڑوں کو  (چاہے گرمیوں کے ہو ں یا سردیوں کے ہوں) ضرورت سے زائد شمار نہیں کیا جاتاہے،لہذا    مذکورہ صورت میں  عورت کے پاس  کپڑوں کے علاوہ جو   دیگر کچھ  نقد رقم،سونا وغیرہ موجود ہے ان سب  کو ملا کر  ان کی قیمت  ساڑھے باون تولہ چاندی    کو پہنچ جائے  تواس پر   قربانی واجب ہوگی ، البتہ اگر اس کے پاس اتنی رقم نہیں جس سے کم قیمت والاجانور بھی خریدا جاسکے تو ایسی صورت میں ادھار لیکر قربانی کرنا ضروری نہیں ۔
وفي البحر الرائق:
(قوله: وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة) أما الأول فلأن الوجوب في الكل باعتبار التجارة، وإن افترقت جهة الإعداد، وأما الثاني فللمجانسة من حيث الثمنية، ومن هذا الوجه صار سببا...... وضم إحدى النقدين إلى الآخر قيمة مذهب الامام.
(زكاة عروض التجارة،ج:2،ص:247،ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي الفتاوي الهندية:
(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة .....وفي الأجناس رجل به زمانة اشترى حمارا يركبه ويسعى في حوائجه وقيمته مائتا درهم فلا أضحية، ولو كان له دار فيها بيتان شتوي وصيفي وفرش شتوي وصيفي لم يكن بها غنيا، فإن كان له فيها ثلاثة بيوت وقيمة الثالث مائتا درهم فعليه الأضحية
(قَوْلُهُ وَالْيَسَارُ إلَخْ) بِأَنْ مَلَك مِائَتَيْ دِرْهَمٍ أَوْ عَرْضًا يُسَاوِيهَا غَيْرَ مَسْكَنِهِ وَثِيَابِ اللُّبْسِ أَوْ مَتَاعٍ يَحْتَاجُهُ إلَى أَنْ يَذْبَحَ الْأُضْحِيَّةَ وَلَوْ لَهُ عَقَارٌ يَسْتَغِلُّهُ فَقِيلَ تَلْزَمُ لَوْ قِيمَتُهُ نِصَابًا، وَقِيلَ لَوْ يَدْخُلُ مِنْهُ قُوتُ سَنَةٍ تَلْزَمُ، وَقِيلَ قُوتُ شَهْرٍ، فَمَتَى فَضَلَ نِصَابٌ تَلْزَمُهُ. وَلَوْ الْعَقَارُ وَقْفًا، فَإِنْ وَجَبَ لَهُ فِي أَيَّامِهَا نِصَابٌ تَلْزَمُ، وَصَاحِبُ الثِّيَابِ الْأَرْبَعَةِ لَوْ سَاوَى الرَّابِعُ نِصَابًا غِنًى وَثَلَاثَةً فَلَا، لِأَنَّ أَحَدَهَا لِلْبِذْلَةِ وَالْآخَرُ لِلْمِهْنَةِ وَالثَّالِثُ لِلْجَمْعِ وَالْوَفْدِ وَالْأَعْيَادِ،
(الاضحية،ص:293،ج:3،ط:دارالفكر)
وفي الدرالمختار:
(ذِي نِصَابٍ فَاضِلٍ عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ) كَدَيْنِهِ وَحَوَائِجِ عِيَالِهِ (وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ) كَمَا مَرَّ (وَبِهِ) أَيْ بِهَذَا النِّصَابِ (تَحْرُمُ الصَّدَقَةُ) كَمَا مَرَّ، وَتَجِبُ الْأُضْحِيَّةُ وَنَفَقَةُ الْمَحَارِمِ عَلَى الرَّاجِحِ
(صدقة الفطر،ص:357،ج:2،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 12 Aug 2026