نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ جن بعض حضرات نے تین سےزائد کپڑوں کو ضرورت سےزائد شمار کیا ہےان کے قول کا اعتبار نہیں، بلکہ جمہور علماء کایہ کہنا ہےکہ حالات کی تبدیلی کی صورت میں چیزوں کی تعداد اوراستعمال میں فرق آجاتا ہے؛اس لیے اب تین سے زائد کپڑوں کو (چاہے گرمیوں کے ہو ں یا سردیوں کے ہوں) ضرورت سے زائد شمار نہیں کیا جاتاہے،لہذا مذکورہ صورت میں عورت کے پاس کپڑوں کے علاوہ جو دیگر کچھ نقد رقم،سونا وغیرہ موجود ہے ان سب کو ملا کر ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچ جائے تواس پر قربانی واجب ہوگی ، البتہ اگر اس کے پاس اتنی رقم نہیں جس سے کم قیمت والاجانور بھی خریدا جاسکے تو ایسی صورت میں ادھار لیکر قربانی کرنا ضروری نہیں ۔
وفي البحر الرائق:
(قوله: وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة) أما الأول فلأن الوجوب في الكل باعتبار التجارة، وإن افترقت جهة الإعداد، وأما الثاني فللمجانسة من حيث الثمنية، ومن هذا الوجه صار سببا...... وضم إحدى النقدين إلى الآخر قيمة مذهب الامام.
(زكاة عروض التجارة،ج:2،ص:247،ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي الفتاوي الهندية:
(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة .....وفي الأجناس رجل به زمانة اشترى حمارا يركبه ويسعى في حوائجه وقيمته مائتا درهم فلا أضحية، ولو كان له دار فيها بيتان شتوي وصيفي وفرش شتوي وصيفي لم يكن بها غنيا، فإن كان له فيها ثلاثة بيوت وقيمة الثالث مائتا درهم فعليه الأضحية
(قَوْلُهُ وَالْيَسَارُ إلَخْ) بِأَنْ مَلَك مِائَتَيْ دِرْهَمٍ أَوْ عَرْضًا يُسَاوِيهَا غَيْرَ مَسْكَنِهِ وَثِيَابِ اللُّبْسِ أَوْ مَتَاعٍ يَحْتَاجُهُ إلَى أَنْ يَذْبَحَ الْأُضْحِيَّةَ وَلَوْ لَهُ عَقَارٌ يَسْتَغِلُّهُ فَقِيلَ تَلْزَمُ لَوْ قِيمَتُهُ نِصَابًا، وَقِيلَ لَوْ يَدْخُلُ مِنْهُ قُوتُ سَنَةٍ تَلْزَمُ، وَقِيلَ قُوتُ شَهْرٍ، فَمَتَى فَضَلَ نِصَابٌ تَلْزَمُهُ. وَلَوْ الْعَقَارُ وَقْفًا، فَإِنْ وَجَبَ لَهُ فِي أَيَّامِهَا نِصَابٌ تَلْزَمُ، وَصَاحِبُ الثِّيَابِ الْأَرْبَعَةِ لَوْ سَاوَى الرَّابِعُ نِصَابًا غِنًى وَثَلَاثَةً فَلَا، لِأَنَّ أَحَدَهَا لِلْبِذْلَةِ وَالْآخَرُ لِلْمِهْنَةِ وَالثَّالِثُ لِلْجَمْعِ وَالْوَفْدِ وَالْأَعْيَادِ،
(الاضحية،ص:293،ج:3،ط:دارالفكر)
وفي الدرالمختار:
(ذِي نِصَابٍ فَاضِلٍ عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ) كَدَيْنِهِ وَحَوَائِجِ عِيَالِهِ (وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ) كَمَا مَرَّ (وَبِهِ) أَيْ بِهَذَا النِّصَابِ (تَحْرُمُ الصَّدَقَةُ) كَمَا مَرَّ، وَتَجِبُ الْأُضْحِيَّةُ وَنَفَقَةُ الْمَحَارِمِ عَلَى الرَّاجِحِ
(صدقة الفطر،ص:357،ج:2،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 12 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔