نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں آپ کے مالک کا ختم قرآن کروانے کے بعد بکری ذبح کر کے کسی ویرانے میں پھینکنے کا کہنادرست نہیں ہے اس لئے کہ یہ اضاعت مال ہے جس سے آپﷺ نے منع فرمایا ہے لہذا اگر آپ کا مالک بکری کوغیراللہ کے نا م پرنذر کرکے ذبح نہیں کرتا،بلکہ اللہ تعالی کے نام پر ذبح کرتا ہےاور نذر بھی اللہ تعالی ہی کے نام ہو تواس صورت میں آپ اس کو بجائے پھینکنے کے کسی مدرسے میں بھی دے سکتے ہیں اور پھر مدرسہ کے انتظامیہ کی اجازت سےخود بھی اس میں سے کھاسکتے ہو،اور مدرسہ میں دیئے بغیر خود بھی کھانا جائز ہے
كما قال الله تبارك وتعالي:
إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا .
[سورة الاسرا:آيت 27]
وفي صحيح المسلم:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ، حَرَّمَ عُقُوقَ الْوَالِدِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَلَا وَهَاتِ، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ "
[باب النهي عن كثرة السؤال،ج3،ص1341،ط:دار احياء التراث]
وفى التاتارخانيه:
فاما الصدقة على وجه الصلة والتطوع فلا باس به وفى الفتاوي العتابيه:وكذلك يجوز النفل للغني.
[كتاب الزكوة،ج2،ص275،ط:اعزازيه]
كما فى الهندية:
يكره ان يخرق نعله او يلقيه فى الماء ؛لانه اضاعة المال بلافائدة كذا فى السراجية.
[الباب الثلاثون فى المتفرقات،ج5،ص379،ط:رشيديه]
وفى الموسوعة الفقهية:
واتفقوا على انها تحل للغني لان صدقة التطوع كالهبة فتصح للغني والفقير.
[الموسوعة الفقهية،ص26]
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 13 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔