سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-59 Fatwa no: 1447-59

ذبح شدہ بکری کو پھینکنے یا مدرسے میں دینے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: میں ایک آدمی کے ساتھ ملازمت کرتا ہوں پہلے وہ گھر میں کسی کو بلاکر ختم کرواتے، طلباء کو بکرا کھلاتے تھے یا کسی مدرسے میں دیتے تھے اب کچھ عرصہ سے وہ بکرا خریدتے ہیں گھر لاکر ذبح کرتے ہیں پھر مجھے کہتے ہیں کہ اس کو کسی ویرانے میں پھینک دو،چونکہ ان کا مجھ پر اعتماد ہے اس لئے مجھے دیدیتے ہیں لہذا اگر پھینکنے کے بجائے میں کسی مدرسے میں دیدوں تو کیا حکم ہے اور کیا میں اس مدرسے میں خود کھاسکتا ہوں؟
جواب :

صورت مسئولہ میں آپ کے مالک کا ختم قرآن کروانے کے بعد بکری  ذبح کر کے کسی ویرانے میں پھینکنے کا کہنادرست نہیں ہے اس لئے کہ یہ اضاعت  مال ہے جس سے آپﷺ نے منع فرمایا ہے لہذا اگر آپ کا مالک بکری کوغیراللہ کے نا م پرنذر کرکے ذبح نہیں   کرتا،بلکہ اللہ تعالی کے نام پر ذبح کرتا ہےاور نذر بھی اللہ تعالی ہی کے نام ہو  تواس صورت میں آپ اس کو بجائے پھینکنے کے کسی مدرسے میں بھی دے سکتے ہیں اور پھر مدرسہ کے انتظامیہ کی اجازت سےخود بھی اس میں سے کھاسکتے ہو،اور مدرسہ میں دیئے بغیر خود بھی کھانا جائز ہے
كما قال الله تبارك وتعالي:
إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا .
[سورة الاسرا:آيت 27]
وفي صحيح المسلم: 
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ إِلَى مُعَاوِيَةَ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ، حَرَّمَ عُقُوقَ الْوَالِدِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَلَا وَهَاتِ، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ "
[باب النهي عن كثرة السؤال،ج3،ص1341،ط:دار احياء التراث]
وفى التاتارخانيه:
فاما الصدقة على وجه الصلة والتطوع فلا باس به  وفى الفتاوي العتابيه:وكذلك يجوز النفل للغني.
[كتاب الزكوة،ج2،ص275،ط:اعزازيه]
كما فى الهندية:
يكره ان يخرق نعله او يلقيه فى الماء ؛لانه اضاعة المال بلافائدة كذا فى السراجية.
[الباب الثلاثون فى المتفرقات،ج5،ص379،ط:رشيديه]
وفى الموسوعة الفقهية:
واتفقوا على انها تحل للغني لان صدقة التطوع كالهبة فتصح للغني والفقير.
[الموسوعة الفقهية،ص26]

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب