سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-591 Fatwa no: 1448-591

ٹیکس سے بچنے کے لیے والد کا دکانیں اپنے بیٹوں کے نام کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے نانا کا کل مال دو دکانیں اور ایک گھر ہے ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں انہوں نے زندگی میں ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنی دونوں دوکانیں دو دو بیٹوں کے نام کردی تھیں ،لیکن سارے معاملات وہ خود ہی سنبھالتے تھےاب نانا فوت ہوگئے ہیں میراث کی تقسیم سے پہلے ان کے دو بیٹے بھی وفات پاگئے ہیں باقی دو بیٹوں میں سے ایک بھائی کا کہنا ہے کہ ان دکانوں میں بہنو ں کا کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ یہ والد صاحب نے ہمیں دے دیں تھی لیکن ایک بھائی کہتا ہے کہ ان دکانوں میں بہنوں کا بھی حصہ ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ کس کی بات درست ہے کیا دکانوں سے بہنوں کوحصہ ملے گا یا نہیں ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں  والد(نانا)نے    دکانیں   صرف  بیٹوں کے نام کر دی تھیں ،لیکن  خود اس سے بے دخل  ہوکر مکمل قبضہ اور تصرف کااختیار اپنے بیٹوں کو نہیں دیا تھا،جبکہ  ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے عاقدین یعنی ہبہ کرنے والے کا ہبہ کرنے والی چیز سے بے دخل ہونا اور جس کو ہبہ کیا جا رہا ہے اس کا کامل  طور پر قبضہ شرط ہے ،اس لیے ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے گھر کے ساتھ ساتھ دکانوں میں بھی  وراثت  جاری ہو گی اور  دونوں  بیٹیوں کو  بھی اس  میں  سے  حصہ ملے گا۔
كما في القرآن المجيد:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ
(النساء،آية:11،12،پاره،4)
وفي المبسوط:
فإن الله تعالى بين نصيب كل واحد من أصحاب الفرائض والتقدير الثابت بالنص يمنع الزيادة عليه لأن في الزيادة مجاوزة الحد الشرعي وقد قال الله تعالى بعد آية المواريث: {وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ} [النساء: 14] الآية، فقد ألحق الوعيد بمن جاوز الحد المشروع وفي الرد عليهم زيادة على ما قدر لكل واحد منهم.
( الجزء تاسع والعشرون،:356،ج:29،ط:دار الفكر)
وفي شرح المجلة:
 ( المادة 97 ) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف { لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده } فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا.
(وفي قواعد الكلية الفقهية،ص:255،ج:1،ط: معارف القرآن)
وفي الفتاوي التاتارخانية:
وفي الذخيرة۔واذا أراد الرجل أن يفضل بعض أولاده في الهبة في حال الصحة روي عن أبي حنيفة:انه لابأس به،إذا كان التفضيل بسبب زيادة الفضل له في الدين، فان كان سواء يكره هكذا ذكر في بعض المواضع، وعن أبي يوسف: أنه لا بأسبه إذا لم يرد الاضرار بالثاني،وذاك في بعض المواضع ان كان التفضيل بالزيادة فلا بأس بذلك،وإن كان في البر سواء لا ان يفعل ذلك، وان كان له ولد فاسق لا يعطيه،وينبغي أن لا يعطيه اكثر من قوته كي لايصير معينا له علي المعصية.
الفصل السادس في الهبة من الصغير،ص:462،ج:14، ط:اعزازية))
وفي البحر الرايق:
( وهبة الأب لطفله تتم بالعقد) ۔۔۔۔ وقيد بالطفل لأن الهبة للولد الكبير لا تتم إلا بقبضه ولو كان في عياله كذا في المحيط۔۔۔۔فروع يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد ( ( ( الواحد ) ) ) جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط ۔۔۔وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية ولو كان ولده فاسقا لا يعطى له أكثر من قوته.
(كتاب الهبه،ص: 490،ج:7،ط: الوحيدية)
وفي المحيط البرهاني:
أن القبض شرط تمام الهبة، واشتغال الموهوب بملك الواهب يمنع تمام القبض من الموهوب له، وهذا لأن الموهوب ما دام يملك الواهب كان يد الواهب قائمة على الموهوب لقيامها على ما هو شاغل للموهوب، وقيام يد المواهب.... يمنع تمام الموهوب له .
(ما يجوز من الهبة وما لا يجوز،ص:174،ج:9،ط:ادرة القرآن) 

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 12 Aug 2026