نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ اگر حکومت نے منصفانہ کسٹم ٹیکس( ٹیکس مقرر کرنے میں انصاف سے کام لیا )مقرر کیے ہوں اور اس کا یہ اصول ہے کہ ایک مکمل چیز( مثلاً سائیکل )کے منگوانے پر ٹیکس زیادہ ہے اور (پارٹس)اس کے اجزاء کی صورت میں ٹیکس کم ہے تو زیادہ ٹیکس سے بچنے کے لیے ایک مکمل چیز کو پارٹس میں تقسیم کر کے الگ الگ کنٹینرز میں منگوانا ٹیکس کی چوری اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ شرعاً درست نہیں۔
كما في الفتاوي الهندية:
الفصل الأول: في بيان جواز الحيل وعدم جوازها فنقول: مذهب علمائنا - رحمهم الله تعالى - أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة وكل حيلة يحتال بها الرجل ليتخلص بها عن حرام أو ليتوصل بها إلى حلال فهي حسنة، والأصل في جواز هذا النوع من الحيل قول الله تعالى {وخذ بيدك ضغثا فاضرب به ولا تحنث} [ص: 44] وهذا تعليم المخرج لأيوب النبي - عليه وعلى نبينا الصلاة والسلام - عن يمينه التي حلف ليضربن امرأته مائة عود وعامة المشايخ على أن حكمها ليس بمنسوخ وهو الصحيح من المذهب
(في بيان جواز الحيل وعدم جوازها،ص:389،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي المبسوط :
وَالدَّلِيلُ عَلَى جَوَازِهِ مِنْ الْكِتَابِ - قَوْله تَعَالَى - {: وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ} [ص: 44] هَذَا تَعْلِيمُ الْمَخْرَجِ لِأَيُّوبَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنْ يَمِينِهِ الَّتِي حَلَفَ لَيَضْرِبَنَّ زَوْجَتَهُ مِائَةً، فَإِنَّهُ حِينَ قَالَتْ: لَهُ لَوْ ذَبَحْتَ عَنَاقًا بِاسْمِ الشَّيْطَانِ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ أَوْرَدَهَا أَهْلُ التَّفْسِيرِ - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - وَقَالَ - تَعَالَى -: {فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجِهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ} [يوسف: 70] إلَى قَوْلِهِ {ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ} [يوسف: 76] وَذَلِكَ مِنْهُ حِيلَةٌ، وَكَانَ هَذَا حِيلَةً لِإِمْسَاكِ أَخِيهِ عِنْدَهُ حِينَئِذٍ لِيُوقِفَ إخْوَتَهُ عَلَى مَقْصُودِهِ.
(كتاب الحيل،ص:209،ج:30،ط: دار المعرفة)
وفيه ايضا:
أَنَّ مَا يَتَخَلَّصُ بِهِ الرَّجُلُ مِنْ الْحَرَامِ أَوْ يَتَوَصَّلُ بِهِ إلَى الْحَلَالِ مِنْ الْحِيَلِ فَهُوَ حَسَنٌ، وَإِنَّمَا يُكْرَهُ ذَلِكَ أَنْ يَحْتَالَ فِي حَقٍّ لِرَجُلٍ حَتَّى يُبْطِلَهُ أَوْ فِي بَاطِلٍ حَتَّى يُمَوِّهَهُ أَوْ فِي حَقٍّ حَتَّى يُدْخِلَ فِيهِ شُبْهَةً فَمَا كَانَ عَلَى هَذَا السَّبِيلِ فَهُوَ مَكْرُوهٌ، وَمَا كَانَ عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي قُلْنَا أَوَّلًا فَلَا بَأْسَ بِهِ؛
(كتاب الحيل،ص:210،ج:30،ط: دار المعرفة)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 12 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔