سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-592 Fatwa no: 1448-592

ٹیکس سے بچنے کے لیے ایک ہی قسم کے سامان کو دو الگ الگ کنٹینر میں منگوانے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص باہر سے ایک کنٹینر (مثلاً چائنہ سے) منگواتا ہے جس میں ایک ہی قسم کی چیزیں (مثلاً صرف سائیکلیں) ہوں، تو حکومت کی طرف سے اس پر زیادہ کسٹم ٹیکس لگتا ہے۔اس سے بچنے کے لیے اگر وہی سامان مثلا سائیکل کے پارٹس کو الگ کر کے دو الگ الگ کنٹینرز میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ ہر کنٹینر میں الگ الگ اشیاء ظاہر ہوں اور یوں ٹیکس کم لگے،کیونکہ قانونی طور پر مختلف پارٹس والے کنٹینرز پر ٹیکس کم لگتا ہے.تو آیا اس طرح کا حیلہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب :

بصورت مسئولہ اگر حکومت نے منصفانہ کسٹم ٹیکس(  ٹیکس   مقرر کرنے میں انصاف سے کام  لیا  )مقرر کیے ہوں اور اس کا یہ اصول ہے کہ ایک  مکمل چیز( مثلاً سائیکل )کے منگوانے پر ٹیکس زیادہ ہے اور (پارٹس)اس کے اجزاء کی صورت میں ٹیکس کم ہے  تو  زیادہ ٹیکس سے بچنے کے لیے ایک مکمل چیز کو پارٹس میں تقسیم کر کے الگ الگ کنٹینرز میں منگوانا   ٹیکس کی چوری  اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ شرعاً درست نہیں۔
كما في الفتاوي الهندية: 
الفصل الأول: في بيان جواز الحيل وعدم جوازها فنقول: مذهب علمائنا - رحمهم الله تعالى - أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة وكل حيلة يحتال بها الرجل ليتخلص بها عن حرام أو ليتوصل بها إلى حلال فهي حسنة، والأصل في جواز هذا النوع من الحيل قول الله تعالى {وخذ بيدك ضغثا فاضرب به ولا تحنث} [ص: 44] وهذا تعليم المخرج لأيوب النبي - عليه وعلى نبينا الصلاة والسلام - عن يمينه التي حلف ليضربن امرأته مائة عود وعامة المشايخ على أن حكمها ليس بمنسوخ وهو الصحيح من المذهب
(في بيان جواز الحيل وعدم جوازها،ص:389،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي المبسوط :
وَالدَّلِيلُ عَلَى جَوَازِهِ مِنْ الْكِتَابِ - قَوْله تَعَالَى - {: وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ} [ص: 44] هَذَا تَعْلِيمُ الْمَخْرَجِ لِأَيُّوبَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنْ يَمِينِهِ الَّتِي حَلَفَ لَيَضْرِبَنَّ زَوْجَتَهُ مِائَةً، فَإِنَّهُ حِينَ قَالَتْ: لَهُ لَوْ ذَبَحْتَ عَنَاقًا بِاسْمِ الشَّيْطَانِ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ أَوْرَدَهَا أَهْلُ التَّفْسِيرِ - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - وَقَالَ - تَعَالَى -: {فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجِهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ} [يوسف: 70] إلَى قَوْلِهِ {ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِيهِ كَذَلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ} [يوسف: 76] وَذَلِكَ مِنْهُ حِيلَةٌ، وَكَانَ هَذَا حِيلَةً لِإِمْسَاكِ أَخِيهِ عِنْدَهُ حِينَئِذٍ لِيُوقِفَ إخْوَتَهُ عَلَى مَقْصُودِهِ.
(كتاب الحيل،ص:209،ج:30،ط: دار المعرفة)

وفيه ايضا:
أَنَّ مَا يَتَخَلَّصُ بِهِ الرَّجُلُ مِنْ الْحَرَامِ أَوْ يَتَوَصَّلُ بِهِ إلَى الْحَلَالِ مِنْ الْحِيَلِ فَهُوَ حَسَنٌ، وَإِنَّمَا يُكْرَهُ ذَلِكَ أَنْ يَحْتَالَ فِي حَقٍّ لِرَجُلٍ حَتَّى يُبْطِلَهُ أَوْ فِي بَاطِلٍ حَتَّى يُمَوِّهَهُ أَوْ فِي حَقٍّ حَتَّى يُدْخِلَ فِيهِ شُبْهَةً فَمَا كَانَ عَلَى هَذَا السَّبِيلِ فَهُوَ مَكْرُوهٌ، وَمَا كَانَ عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي قُلْنَا أَوَّلًا فَلَا بَأْسَ بِهِ؛
(كتاب الحيل،ص:210،ج:30،ط: دار المعرفة)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 12 Aug 2026