سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-593 Fatwa no: 1448-593

موقوفہ جنازہ گاہ کو ویلفیئر سوسائٹی کے دفتر کے لیے استعمال کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہما رے گاؤں میں آج سے تقریباً 80۔90 سال پہلے جنازہ گاہ کے لیے ایک زمین وقف کی گئی تھی جو کہ واقف کہ نام پر ہی تھی ،پھر تقریباً 15۔16 سال پہلے جنازہ گاہ کی یہ زمین کم ہونےکی وجہ سے جنازہ گاہ کے لیے نئی جگہ خرید کر بڑے جنازہ گاہ کی تعمیر کی گئی،اب جو پرانے جنازہ گاہ کی جگہ ہے کافی عرصہ سے خالی پڑی ہے اور ساتھ میں قبرستان بھی ہے اور قبرستان کی ساری دیکھ بھال ویلفئیر سوسائٹی کی نگرانی میں کی جا رہی ہے تو ویلفئیر سوسائٹی اپنی ایمبولینس سروس،دفتری استعمال اور قبرستان کے سامان کے لیے پرانے جنازہ گاہ کی زمین کو اپنے استعمال میں لانا چاہتی ہے اور وہاں پر ایک کمرہ تعمیر کیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا پرانا جنازہ گاہ ایمبولینس کے دفتر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ واقف جنہوں نے یہ زمین دی تھی زمین ان کے (ورثاء)نام پر ہی ہے اور ان کو یہ دفتر بنانے میں کوئی اعتراض بھی نہیں ہے۔
جواب :

واضح رہے کہ زندگی میں اپنی  کسی چیز کو اللہ تعالی کی ملکیت میں دے دینے  کا نام وقف ہے اور وقف میں متولی(چاہے واقف خود  ہو یا کوئی مقرر کیا ہو)  مالکانہ تصرف نہیں کر سکتا   ہے ،تاہم اگر  وقف  شدہ چیز  سے انتفاع ممکن نہ  ہو اور لوگوں نے  اس  سے انتفاع  بھی چھوڑدیا ہو تو  متولی اس وقف کو   بدل کر  اس کے ہم جنس  وقف میں  لگا سکتا ہے اور   اگر  ہم جنس میں لگاناممکن نہ   ہو تو دوسرے  مصالح عامہ میں بھی  لگا سکتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر وقف شده زمىن كےقريب كوئى مسجدنہ ہو  اور وقف شدہ جنازہ گاہ کی زمین (جوکافی عرصہ سے خالی پڑی ہے اور لوگوں نے اس میں نماز جنازہ پڑھنا،پڑھانا  چھوڑ دیا ہے) كو مسجد کے لیے   استعمال کرناممکن ہو   تو اس كو مسجد بنايا جائے،ليكن اگر قريب قريب مساجد  ہوں اور اس جگہ مسجد بنانے كى ضرورت نہ ہو ،تو قبرستان  كى ديكھ بھال کرنے والی ويلفيئر سوسائٹی اس کو دیگر مصالح عامہ اور  دفتر وغیرہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
كما في الفقه الاسلامي:
الفَصْلُ الثَّامن : استبدال الوقف وبيعه حالة الخراب :يقصد بالوقف دوام الانتفاع به، وتحصيل الثواب والأجر بنفعه، فإذا آل إلى الخراب، فماذا يكون مصيره؟
أجاز الفقهاء استبداله وبيعه للضرورة بشروط وقيود وتفصيلات لديهم.
قال الحنفية (1) : ۔ إذا كان الوقف عقاراً غير مسجد، فالمعتمد أنه يجوز للقاضي الاستبدال به للضرورة بلا شرط الواقف،۔۔۔۔والخلاصة: الاتجاه في الفتوى عند مشايخ الحنفية بيع الأنقاض وصرف ثمنها إلى مسجد آخر أو رباط آخر؛ لأن غرض الواقف انتفاع الناس بالموقوف.
( استبدال الوقف،ص:353،ج:10،ط: رشيدية)
وفي الفتاوي الهندية:
 كذا في محيط السرخسي المتخذ لصلاة الجنازة حكمه حكم المسجد حتى يجنب ما يجنب المسجد…………في فتاوى الحجة لو صار أحد المسجدين قديما وتداعى إلى الخراب فأراد أهل السكة بيع القديم وصرفه في المسجد الجديد فإنه لا يجوز أما على قول أبي يوسف رحمه الله تعالى فلأن المسجد وإن خرب واستغنى عنه أهله لا يعود إلى ملك الباني وأما على قول محمد رحمه الله تعالى وإن عاد بعد الاستغناء ولكن إلى ملك الباني وورثته فلا يكون لأهل المسجد على كلا القولين ولاية البيع والفتوى على قول أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا يعود إلى ملك مالك أبدا.
( كتاب الوقف، ص:221،225،ج: 4،ط:رشيدية)
وفي الدر المختار:
( حبس العين على ملك الواقف والتصدق بالمنفعة ) يعني عند أبي حنيفة رضي الله عنه وعندهما هو حبس العين على حكم ملك الله تعالى….. و ) جاز ( شرط الاستبدال به ) أرضا أخرى حينئذ ( أو ) شرط ( بيعه ويشتري بثمنه أرضا أخرى إذا شاء فإذا فعل صارت الثانية كالأولى في شرائطها وإن لم يذكرها ثم لا يستبدلها ) بثالثة لأنه حكم ثبت بالشرط والشرط وجد في الأولى لا الثانية ( وأما ) الاستبدال ولو للمساكين آل ( بدون الشرط فلا يملكه إلا القاضي ) .
( كتاب الوقف:ص:387،ج:4،ط:سعيد)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026