نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے قرب اور بعد کا اعتبار عرف کے مطابق ہوتا ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر جگہ کم ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور جگہ نہیں ہے تو جوتیوں کےریک کےقریب قرآن وحدیث کی تعلیم کرنا درست ہے ، بصورت دیگر ان کے درمیان اتنا فاصلہ ہونا ضروری ہے جس سے قرآن و حدیث کی بے ادبی نہ ہو ۔
کمافي الدرالمختار مع ردالمحتار:
( ويكره ) تحريما ( استقبال القبلة بالفرج )...كما كره ( مد رجليه في نوم أو غيره إليها ) أي عمدا لأنه إساءة أدب ...( أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عن المحاذاة ) فلا يكره.
( قوله مد رجليه ).. ( قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط .( قوله لأنه إساءة أدب )...( قوله إلا أن يكون ) ما ذكر من المصحف والكتب ( قوله مرتفع ) ظاهره ولو كان الارتفاع قليلا ط قلت : أي بما تنتفي به المحاذاة عرفا ، ويختلف ذلك في القرب والبعد ، فإنه في البعد لا تنتفي بالارتفاع القليل والظاهر أنه مع البعد الكثير لا كراهة مطلقا تأمل
(فرع لا بأس باتخاذ المسبحة لغير رياء،ص:655،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوی الحديثية:
ويحرم مد الرجل إلى شيء من القرآن أوكتب العلم انتهى وفي إطلاق الحرمة وقفة بل الأوجه عدمها إذا لم يقصد بذلك ما ينافي تعظيمه .
(التسبيح والقرآن،ص:164،ج:1،ط:دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔