سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-595 Fatwa no: 1448-595

ٓ نماز میں چادر کے اندر ہاتھ رکھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ سردی میں چادر اوڑھ کر نماز پڑھتا ہے تو کیا نماز میں ہاتھ چادر کے اندر ہونے چاہیے یا باہر اگر اندر ہو تو کیانماز فاسد ہو جاتی ہے؟
جواب :

چادر اگر اس طرح اوڑھی ہو کہ اس کے ساتھ  چہرہ بھی ڈھا نپاہو ا ہو  اور سنت کے مطابق  سجدہ کرنا ممکن نہ ہوتو اس  طرح چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ،البتہ  اگر چہرہ   ڈھانپاہوا نہ ہو اور سنت کے مطابق سجدہ کرنا ممکن  ہو تو     چادر  میں نماز پڑ ھنا    (چاہے ہاتھ باہر ہو یا نہ ہے) بلا کراہت جائز ہے ۔
الدر المختار:
( وكره ) ( سدل ) تحريما للنهي ( ثوبه ) أي إرساله بلا لبس معتاد ، وكذا لقباء بكم إلى وراء .ذكره الحلبي ؛ كشد ومنديل يرسله من كتفيه ، فلو من أحدهما لم يكره …...( قوله كشد ) هو شيء يعتاد وضعه على الكتفين كما في البحر ، وذلك نحو الشال.
( باب ما يفسد وما يكره فيها،۶۳۹/۲، سعيد)
المحيط البرهاني:
وكذلك يكره له أن يضع ثوبه على رأسه ويلف به جميع بدنه بحيث لا يبقى له فُرْجَه؛ لأن فيه تغطية الفم، وإنها مكروهة.
(ما يكره في الصلاة،۱۳۸/۲، ادارة القرآن)
 حاشية الطحطاوي:
كشد ومنديل يرسله من كتفيه ، فلو من أحدهما لم يكره كحالة عذر وخارج صلاته في الأصح .(كشد) هو نحو الشال الذي يوضع علی الكتفين۔۔۔۔۔۔ والشارح أخذ من عبارة الفتح حيث ذكر الكتفين أن الوضع من كتف واحد لا يكره ويمكن أن يقال: إنه عبر بالكتيفين.
( باب ما يفسد وما يكره فيها،۳۵۶،۳۵۷/۲، الوحيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026