نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںچادر اگر اس طرح اوڑھی ہو کہ اس کے ساتھ چہرہ بھی ڈھا نپاہو ا ہو اور سنت کے مطابق سجدہ کرنا ممکن نہ ہوتو اس طرح چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ،البتہ اگر چہرہ ڈھانپاہوا نہ ہو اور سنت کے مطابق سجدہ کرنا ممکن ہو تو چادر میں نماز پڑ ھنا (چاہے ہاتھ باہر ہو یا نہ ہے) بلا کراہت جائز ہے ۔
الدر المختار:
( وكره ) ( سدل ) تحريما للنهي ( ثوبه ) أي إرساله بلا لبس معتاد ، وكذا لقباء بكم إلى وراء .ذكره الحلبي ؛ كشد ومنديل يرسله من كتفيه ، فلو من أحدهما لم يكره …...( قوله كشد ) هو شيء يعتاد وضعه على الكتفين كما في البحر ، وذلك نحو الشال.
( باب ما يفسد وما يكره فيها،۶۳۹/۲، سعيد)
المحيط البرهاني:
وكذلك يكره له أن يضع ثوبه على رأسه ويلف به جميع بدنه بحيث لا يبقى له فُرْجَه؛ لأن فيه تغطية الفم، وإنها مكروهة.
(ما يكره في الصلاة،۱۳۸/۲، ادارة القرآن)
حاشية الطحطاوي:
كشد ومنديل يرسله من كتفيه ، فلو من أحدهما لم يكره كحالة عذر وخارج صلاته في الأصح .(كشد) هو نحو الشال الذي يوضع علی الكتفين۔۔۔۔۔۔ والشارح أخذ من عبارة الفتح حيث ذكر الكتفين أن الوضع من كتف واحد لا يكره ويمكن أن يقال: إنه عبر بالكتيفين.
( باب ما يفسد وما يكره فيها،۳۵۶،۳۵۷/۲، الوحيدية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔