نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں رجعی طلاق کےبعد عدت کے اندر رجوع کرنے سے بیوی حلال ہو جاتی ہے،لیکن اس سے طلاق کا عدد باطل نہیں ہوتا یعنی رجوع کے بعد بھی یہ طلاق آئندہ طلاقوں کے مجموعہ میں شمار ہوتی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کی چودہ سال پہلے دی ہوئی طلاق اب کی دی ہوئی دو طلاقوں کے ساتھ مل کر اس کی بیوی پر کل تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا جائزنہیں ، إلا يہ کہ عورت اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعدکسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کر ے اس سے ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اور پهر وہ طلاق دے یا فوت ہو جائے، تو پھرعدت گزارنے كے بعد عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے،لہذا اب میاں بیوی کو چاہیے کہ فوراًایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لیں۔
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ..... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ
(سورة البقرة،آية:229،230)
وفي الفتاوي الهندية:
وإذا طلقها ثم راجعها يبقى الطلاق وإن كان لا يزيل الحل والقيد في الحال لأنه يزيلهما في المآل حتى انضم إليه ثنتان
(كتاب الطلاق،ص:348،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
الفرق بين الطلاق والفسخ في رأي الحنفية: أن الطلاق: هو إنهاء الزواج .....ويحتسب من الطلقات الثلاث التي يملكها الرجل على امرأته، وهو لا يكون إلا في العقد الصحيح.أثر كل منهما: الفسخ: لا ينقص عدد الطلقات التي يملكها الرجل، أما الطلاق فينقص به عدد الطلقات.
(الفرق بين الطلاق والفسخ،ص:3152،ج:2،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔