سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-596 Fatwa no: 1448-596

سابقہ طلاق کو موجودہ طلاقوں میں شمار کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ایک دوست نےگزشتہ ہفتے اپنے بیوی کو دو طلاقیں(جن کے الفاظ یہ تھے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں) دےدی اور آج سے تقریباً چودہ سال پہلے بھی ان ہی الفاظ( میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ) کے ساتھ ایک طلاق اپنی بیوی کو دی تھی اس کے بعد اس نے کسی مولانا صاحب سے مسئلہ پوچھا تھا پھر عدت کے دوران رجوع بھی کیاتھااور پھرا ن کی اولاد بھی ہوئی، تو اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا یہ چودہ سال پہلے دی ہوئی طلاق کو اب کی دی ہوئی طلاقوں میں شمار کیا جائے گا یا نہیں اور اگر شمار کیا جائے گا تو میاں بیوی کے لیے کیا حکم ہو گا؟
جواب :

 رجعی طلاق کےبعد عدت کے اندر رجوع کرنے سے بیوی  حلال ہو جاتی ہے،لیکن اس سے  طلاق   کا عدد باطل نہیں ہوتا یعنی رجوع کے بعد بھی یہ طلاق آئندہ  طلاقوں کے مجموعہ میں شمار ہوتی ہے  ،لہذا صورت مسئولہ  میں مذکورہ شخص کی چودہ سال پہلے دی ہوئی طلاق   اب کی دی ہوئی دو طلاقوں کے ساتھ مل کر   اس کی بیوی پر کل تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں  جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے  اور نہ ہی  دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا  جائزنہیں ، إلا يہ کہ عورت اس خاوند کی عدت گزارنے کے بعدکسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کر ے اس سے  ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اور پهر وہ طلاق دے یا فوت ہو جائے، تو  پھرعدت گزارنے كے بعد عورت  پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے،لہذا  اب میاں بیوی کو چاہیے کہ فوراًایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ 
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ..... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ
(سورة البقرة،آية:229،230)
وفي الفتاوي الهندية:
وإذا طلقها ثم راجعها يبقى الطلاق وإن كان لا يزيل الحل والقيد في الحال لأنه يزيلهما في المآل حتى انضم إليه ثنتان
(كتاب الطلاق،ص:348،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
الفرق بين الطلاق والفسخ في رأي الحنفية: أن الطلاق: هو إنهاء الزواج .....ويحتسب من الطلقات الثلاث التي يملكها الرجل على امرأته، وهو لا يكون إلا في العقد الصحيح.أثر كل منهما: الفسخ: لا ينقص عدد الطلقات التي يملكها الرجل، أما الطلاق فينقص به عدد الطلقات.
(الفرق بين الطلاق والفسخ،ص:3152،ج:2،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026