نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ میں اگر واقعتاً کمپاؤنڈ نے کرسی ہسپتال سے چوری کی تھی تو چوری کرنے کا گناہ اس پر ہوگا اور اس سےجس دوسرے آدمی نے چوری کی ہے تویہ دوسراشخص اس کرسی کو اس ہسپتال میں دے گاجہاں سے کمپاؤنڈر نے چوری کی تھی اور اس گناہ پر توبہ بھی کرے گا؛کیونکہ اصل مالک سرکار ہی ہے ۔
کما فی القرآن المجيد:
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (38) فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
(المائدة،الاية:38،39،پاره:6)
وفي بدائع الصنائع:
فصل أما ركن السرقة فهو الأخذ على سبيل الاستخفاء..قال الله تبارك وتعالى { إلا من استرق السمع } سمى سبحانه وتعالى أخذ المسموع على وجه الاستخفاء استراقا۔۔۔۔۔وإذا عرف هذا فنقول لا قطع في سائر المباحات التي لا يملكها أحد ولا في المباح المملوك وهو مال الحربي في دار الحرب.
(كتاب السرقة،ص:272،283،ج:9،ط:قديمي كتب خانه)
وفيه أيضا:
أنه يجب رده على المالك وقبض السارق ليس بقبض مضمون فكان المسروق في يده بمنزلة الأمانة فإذا استهلكها ضمن.
(حكم السرقة،ص:85،ج:7،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الإسلامي:
لا خلاف بين العلماء في أنه إذا قطع السارق، والعين قائمة، ردت على صاحبها، لبقائها على ملكه.
(هل يجمع بين الضمان والقطع،ص:361،ج:7ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔