سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-597 Fatwa no: 1448-597

چوری کی ہوئی چیز کے چوری کرنے اور اس کی واپسی کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک کمپاؤنڈر نےسرکاری ہسپتال سے کرسی اٹھائی ور اس کو گھر لے گیا پھر کچھ دن کے بعد وہ کرسی چوری ہو گئی اب پوچھنایہ تھا کہ اس کا کیا حکم ہے اور اگر کمپاؤنڈر کے گھر سے چوری کرنےوالا اس چیز کو لوٹانا چاہے تو وہ کس کو واپس کرے گا اصل ہسپتال کو یا کمپاؤنڈرکو ؟
جواب :

بصورت مسئولہ میں اگر واقعتاً کمپاؤنڈ نے کرسی ہسپتال سے  چوری کی تھی  تو چوری کرنے کا گناہ اس پر ہوگا اور اس سےجس دوسرے آدمی نے چوری کی ہے تویہ دوسراشخص اس کرسی کو  اس ہسپتال میں  دے گاجہاں سے کمپاؤنڈر  نے چوری کی تھی اور اس گناہ پر توبہ بھی کرے گا؛کیونکہ  اصل مالک  سرکار ہی ہے ۔
کما فی القرآن المجيد:
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (38) فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
(المائدة،الاية:38،39،پاره:6)
وفي بدائع الصنائع:
فصل أما ركن السرقة  فهو الأخذ على سبيل الاستخفاء..قال الله تبارك وتعالى { إلا من استرق السمع } سمى سبحانه وتعالى أخذ المسموع على وجه الاستخفاء استراقا۔۔۔۔۔وإذا عرف هذا فنقول لا قطع في سائر المباحات التي لا يملكها أحد ولا في المباح المملوك وهو مال الحربي في دار الحرب.
(كتاب السرقة،ص:272،283،ج:9،ط:قديمي كتب خانه)
وفيه أيضا:
أنه يجب رده على المالك وقبض السارق ليس بقبض مضمون فكان المسروق في يده بمنزلة الأمانة فإذا استهلكها ضمن.
(حكم السرقة،ص:85،ج:7،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الإسلامي:
لا خلاف بين العلماء في أنه إذا قطع السارق، والعين قائمة، ردت على صاحبها، لبقائها على ملكه.
(هل يجمع بين الضمان والقطع،ص:361،ج:7ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026