سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-598 Fatwa no: 1448-598

حالت احرام میں جرموق پہننے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حالت احرام مروجہ جرموق پہنا کیسا ہے ایک ساتھی نے پورے عمرہ میں یہ استعمال کئے ہیں اس کے پہننے کا کیا حکم ہے ؟
جواب :

واضح رہے حالتِ احرام میں مردوں کے لیے دونوں ٹخنے اور ان کی سیدھ میں  ایڑھی کے اوپردونوں  طرف  گولائی  میں پاؤں کا حصہ  اور پاؤں کی اوپر والی ابھری ہوئی ہڈی تھوڑی نیچے تک کے حصے   کا کھلا رکھنا ضروری ہے ۔ 
 2:اگر کوئی شخص ایک کامل  دن  ایسا جوتا پہنے جس میں ٹخنے یا اوپر والی ابھری ہوئی ہڈی چھپ جائے، تو اس پر دم واجب ہوتا ہے۔اور اگر ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ   پہنے تو (نصف صاع گندم یا اس کی قیمت) صدقہ کرنا  لازم ہوتا ہے اور اگر ایک گھنٹے سے کم پہنا ہو تو پھر ایک دو مٹھی گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہوتی ہے ،نیز  حالتِ احرام میں کئی دنوں تک مسلسل کوئی شخص   ایسا موزے   یا جوتا  پہنے تو اس پر   بھی ایک ہی دم واجب ہوتا ہے ۔
صورت مسئولہ  میں      اگر  مذکورہ  شخص نےمکمل عمرہ ایسے موزے ( جرموق جس  میں  اس کے  پاؤں کی ابھری ہوئی ہڈی   کا کچھ حصہ  موزے کے نیچے     تھا) پہننے  کی حالت میں ادا  کیا ہو   یعنی   اگر دو  گھنٹے موزے پہنے اور عمرہ  بھی دو گھنٹے کے اندر مکمل کرلیا  تو مذکورہ قاعدہ کی رو سے اس پر دم تو  لازم نہیں ہوتا ،البتہ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ اس پر  احتیاطاً  دم لازم ہونا چاہیے ، لہذا بہتر یہ ہے کہ احتیاطاً دم ادا  کردیں ، بصورت دیگر اگر  پورے عمرے (یعنی ابتداء سے آخر تک) میں   ایسے موزے نہیں پہنے ہیں  تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ اگر ایسے موزے مذکورہ شخص نے ایک گھنٹہ یا اس سے زیادہ     ،لیکن آدھے دن سے کم  پہنے تو  اس پر نصف صاع گندم یا اس کی قیمت کا  صدقہ  کرنا لازم ہے اور اگر ایک گھنٹے سے کم پہنا ہو تو پھر ایک دو مٹھی گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم  ہے اور اگر   آدھے دن سے زیادہ ہوتو دم  واجب ہوگا۔
كما في مختصر القدوري:
ولا يلبس قميصا ولا سراويل ولا عمامة ولا قلنسوة ولا قباء ولا خفين إلا أن لا يجد النعلين فيقطعهما أسفل الكعبين ولا يغطي رأسه.
(ص:66،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الفتاوى الهندية:
ولا يلبس مخيطا قميصا أو قباء أو سراويل أو عمامة أو قلنسوة أو خفا إلا أن يقطع الخف أسفل من 
الكعبين، كذا في فتاوى قاضي خان والكعب هنا المفصل الذي في وسط القدم عند معقد الشراك كذا في التبيين ... والحرام من لبس المخيط هو اللبس المعتاد.
(الباب الرابع فيما يفعله المحرم بعد الإحرام،ج:1،ص:224،ط: دار الفكر)
وفي الدر المختار مع رد المحتار:
(الواجب دم على محرم بالغ) ... (أو لبس مخيطا) لبسا معتادا ... (أو ستر رأسه) بمعتاد ... (يوما كاملا) أو ليلة كاملة، وفي الأقل صدقة (والزائد) على اليوم (كاليوم) وإن نزعه ليلا وأعاده نهارا ولو جميع ما يلبس.
(قوله يوما كاملا أو ليلة) الظاهر أن المراد مقدار أحدهما فلو لبس من نصف النهار إلى نصف الليل من غير انفصال أو بالعكس لزمه دم كما يشير إليه قوله وفي الأقل صدقة شرح اللباب (قوله وفي الأقل صدقة) أي نصف صاع من بر، وشمل الأقل الساعة الواحدة أي الفلكية وما دونها خلافا لما في خزانة الأكمل أنه في ساعة نصف صاع وفي أقل من ساعة قبضة من بر. اهـ. بحر، ومشي في اللباب على ما في الخزانة، وأقره شارحه، واعترض بمخالفته لما ذكره الفقهاء.
(باب الجنايات في الحج،ج:2،ص:543،547،ط: دار الفكر)
وفيه ايضا:
ذكر بعض شراح المناسك: لو أحرم بنسك وهو لابس المخيط وأكمله في أقل من يوم وحل منه لم أر فيه نصا صريحا، ومقتضى قولهم أن الاتفاق الكامل الموجب للدم لايحصل إلابلبس يوم كامل أن تلزمه صدقة. ويحتمل أن يقال أن التقدير باليوم باعتبار كمال الارتفاق إنما هو فيما إذا طال زمن الإحرام، أما إذا قصر كما في مسألتنا فقد حصل كمال الارتفاق فينبغي وجوب الدم، ولكن مع هذا لا بد من نقل صريح.
(ج:2،ص:548،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 13 Aug 2026