سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-600 Fatwa no: 1448-600

(حسين مني وانامن حسين) کا مطلب

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مولوی صاحب نے حدیث کے الفاظ (حُسَيْنٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ)كو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان الفاظ میں ایک نکتہ ہےاور وہ یہ ہے کہ حضرت حسین کی شہادت بعینہ آپﷺ کی شہادت ہے کیا یہ بات درست ہے،اگر یہ نکتہ درست نہیں ہے تو اس طرح بات کرنے والے کے لیے کیاحکم ہے؟
جواب :

 بصورت مسئولہ  مذکورہ حدیث کے جملے سے یہ نکتہ نکالنا کہ حضرت حسین  کی شہادت  بعینہ آپﷺ کی شہادت ہےدرست نہیں؛کیونکہ آپﷺ کی وفات  بیماری کی حالت میں  ہوئی اور حسین  کی وفات میدان جنگ میں لڑتے ہوئے ہوئی، نیز  اس حدیث کی تشریح  میں فقہاء نے  لکھا  ہے  کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی محبت اور تعلق کوان الفاظ کے ساتھ(حُسَيْنٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ)  بیان فرمایا ؛تاکہ امت کو ان کے مقام و مرتبہ  کا علم ہو؛کیونکہ آپﷺ کو معلوم ہو گیا تھا ،چاہے وحی کے ذریعےہو یا الہام کے زریعےہوکہ  حضرت حسین  پر ایک طبقہ ظلم کرے گا اور ان سے عداوت و نفرت کرےگا؛اس لیے آپ ﷺ نے    محبت کی ترغیب دلانے کے لیے یہ الفاظ کہے تھے،لہذا ان الفاظ سے  ایسانکتہ نکالنا جو کسی سے منقول نہ ہو درست  نہیں ہے ۔
كما في سنن ابن ماجه:
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ، وَبَسَطَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَفِرُّ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ، وَالْأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ»
(فَضْلُ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ،ص:51،ج:1،ط: دار إحياء الكتب العربية)
وفي سنن الترمذي:
حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ [ص:659] اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الأَسْبَاطِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ». وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ
(الحسين،ص:658،ج:5،ط: : شركة مكتبة)
وفي مرقاة المفاتيح:
(قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ» ") قَالَ الْقَاضِي: كَأَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِمَ بِنُورِ الْوَحْيِ مَا سَيَحْدُثُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقَوْمِ فَخَصَّهُ بِالذِّكْرِ وَبَيَّنَ أَنَّهُمَا كَالشَّيْءِ الْوَاحِدِ فِي وُجُوبِ الْمَحَبَّةِ وَحُرْمَةِ التَّعَرُّضِ وَالْمُحَارَبَةِ وَأَكَّدَ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ: (" «أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا» ") ، فَإِنَّ مَحَبَّتَهُ مَحَبَّةُ الرَّسُولِ، وَمَحَبَّةُ الرَّسُولِ مَحَبَّةُ اللَّهِ
(باب مناقب اهل بيت النبيﷺ،ص:3981،ج:9،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 15 Aug 2026