نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہےکہ کسی آلہ کے ذریعہ سے کیا گیا شکار کےحلال ہونے کےلئےچند شرائط ہیں ،جن کے بغیر وہ حلال نہیں ہوتا :
1۔جس آلہ کے ذریعہ سے شکار کیا جائے،وہ آلہ تیز اور دھاری دار ہو۔
2۔جانور آلہ کے دباؤ کی وجہ سے نہ مرا ہو،بلکہ اس کی تیزی کی وجہ سے زخمی ہوکر مرا ہو۔
3۔ آلہ چھوڑتے وقت "بسم اللہ "پڑھی گئی ہو۔
بصورت مسئولہ بندوق سے شکار کیاگیا جانوراگرچہ بعض معاصرعلماءکے نزدیک حلال ہے،لیکن اکثر علماء کرام کے نزدیک بندوق سے شکار کئےہوئےجانورمیں مذکورہ شرائط میں سےشرط نمبر1 اور 2 نہیں پائی جاتی ہیں،اس لئے مذکورہ جانور حلال نہیں ہے،کیونکہ وہ دباؤ اور وزن کی وجہ سے ہلاک ہواہے،جبکہ شکار کے حلال ہونے کےلئے شرط یہ ہے،کہ وہ دھاری دار آلہ کی تیزی کی وجہ سے زخمی ہوکرمرا ہو،جبکہ بندوق کی گولی میں دھار نہیں ہوتی،بلکہ دباؤ اور زور ہوتاہے،لہذایہ شکار کھانا جائز نہیں ہے،اور اگر کسی نے غلطی سے کھالیا،تو وہ توبہ واستغفار کرے۔تاہم اگرگولی تیز اور دھاری دار ہو،تو اس صورت میں شرائط پائے جانے کی وجہ سے مذکورہ جانور حلال ہوگا۔
سنن الترمذي: عن عدي بن حاتم قال : قلت يا رسول الله إنا نرسل كلابا...قال قلت يا رسول الله إنا نرمي بالمعارض قال ما خزق وما أصاب بعرضه فلا تأكل(باب مايوكل من صيد الكلب:ص: 4/ 65:داراحياء التراث العربي)
الدر المختار: ( أو بندقة ثقيلة ذات حدة ) لقتلها بالثقل لا بالحد ولو كانت خفيفة بها حدة حل لقتلها بالجرح ولو لم يجرحه لا يؤكل مطلقا(فصل الشرب:ص: 6/ 471:ط:دارالفكر)
تكملة حاشية رد المحتار:قوله: (أو بندقة) بضم الباء والدال: طينة مدورة يرمى بها.قوله: (ولو كانت خفيفة) يشير إلى أن الثقيلة لا تحل وإن جرحت.قال قاضيخان: لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض والعصا وما أشبه ذلك وإن جرح، لانه لا يخرق إلا أن يكون شئ من ذلك قد حدده(الجزء الاول:ص: 1/ 29:ط:دارالفكر)
حضرت مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ علامہ رافعیؒ کے حوالے سے نقل کر تے ہیں،کہ جہاں اس بات کا شبہ پیدا ہوجائے،کہ آیا اس جانور کی موت چوٹ سے واقع ہوئی ہے،یا زخم لگنے سے واقع ہوئی ہے،اس صورت میں شبہ پر عمل کیا جائے گا،اور شبہ کا تقاضہ یہ ہے،کہ اس جانور کو حرام کہا جائے،حلال نہ کہا جائے،اگر اس اصول کو مدنظر رکھاجائے،تو جانب حرمت راجح معلوم ہوتی ہے۔
في تكملة فتح المهلم:
واما الحنفية فالجمهور منهم في ديارنا على عدم حل المصيدبالرصاص مالم يدرك حيا،فيذبح بطريق مشروع،وحجتهم ما ذكره الرافعي من انه ان وقع الشك ولايدرى.مات بالجرح اوالثقل،كان حراما.
(كتاب الصيد والذبائح:3/491:ط:مكتبة دارالعلوم كراتشي)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 13 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔