سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-60 Fatwa no: 1447-60

بندوق سے شکار کیے ہوئےپرندے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
ایک ایساشکار کیاہوا پرندہ جو گولی لگنے سے کٹ پھٹ کر مرجائے ،اسے ذبح نہ کیاگیاہو،تو ایسا شکار کیاہواپرندہ حلال ہوگا،یاحرام ؟اس کا کھانا کیسا ہوگا،اگر کھالیا ہو،تو قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب :

واضح رہےکہ  کسی آلہ کے ذریعہ سے  کیا گیا شکار کےحلال ہونے کےلئےچند شرائط ہیں ،جن کے بغیر وہ حلال نہیں ہوتا :
1۔جس آلہ کے ذریعہ سے شکار کیا جائے،وہ آلہ تیز اور دھاری دار ہو۔
2۔جانور آلہ  کے دباؤ کی وجہ سے نہ مرا ہو،بلکہ اس کی تیزی کی وجہ سے زخمی ہوکر مرا ہو۔
3۔ آلہ چھوڑتے  وقت "بسم اللہ "پڑھی گئی ہو۔
بصورت مسئولہ بندوق سے شکار کیاگیا جانوراگرچہ بعض معاصرعلماءکے نزدیک حلال ہے،لیکن اکثر علماء کرام کے نزدیک بندوق سے شکار کئےہوئےجانورمیں مذکورہ شرائط میں سےشرط نمبر1 اور 2 نہیں پائی جاتی ہیں،اس لئے  مذکورہ جانور  حلال نہیں ہے،کیونکہ وہ دباؤ اور وزن کی وجہ سے ہلاک ہواہے،جبکہ شکار کے حلال ہونے کےلئے شرط یہ ہے،کہ وہ دھاری دار آلہ کی تیزی کی وجہ سے زخمی ہوکرمرا ہو،جبکہ بندوق کی گولی میں دھار نہیں ہوتی،بلکہ دباؤ اور زور ہوتاہے،لہذایہ شکار کھانا جائز نہیں ہے،اور اگر کسی نے غلطی سے کھالیا،تو وہ توبہ واستغفار کرے۔تاہم اگرگولی تیز اور دھاری دار ہو،تو اس صورت میں شرائط پائے جانے کی وجہ سے مذکورہ جانور حلال ہوگا۔
سنن الترمذي: عن عدي بن حاتم قال : قلت يا رسول الله إنا نرسل كلابا...قال قلت يا رسول الله إنا نرمي بالمعارض قال ما خزق وما أصاب بعرضه فلا تأكل(باب مايوكل من صيد الكلب:ص: 4/ 65:داراحياء التراث العربي)
الدر المختار: ( أو بندقة ثقيلة ذات حدة ) لقتلها بالثقل لا بالحد ولو كانت خفيفة بها حدة حل لقتلها بالجرح ولو لم يجرحه لا يؤكل مطلقا(فصل الشرب:ص: 6/ 471:ط:دارالفكر)
تكملة حاشية رد المحتار:قوله: (أو بندقة) بضم الباء والدال: طينة مدورة يرمى بها.قوله: (ولو كانت خفيفة) يشير إلى أن الثقيلة لا تحل وإن جرحت.قال قاضيخان: لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض والعصا وما أشبه ذلك وإن جرح، لانه لا يخرق إلا أن يكون شئ من ذلك قد حدده(الجزء الاول:ص: 1/ 29:ط:دارالفكر)
 حضرت مفتی تقی عثمانی  دامت برکاتہم العالیہ  علامہ رافعیؒ کے حوالے سے نقل کر تے ہیں،کہ جہاں اس بات کا شبہ پیدا ہوجائے،کہ آیا اس جانور کی موت چوٹ  سے واقع ہوئی ہے،یا زخم لگنے سے واقع ہوئی ہے،اس صورت میں شبہ پر عمل کیا جائے گا،اور شبہ کا تقاضہ یہ ہے،کہ اس جانور کو حرام کہا جائے،حلال نہ کہا جائے،اگر اس اصول کو مدنظر رکھاجائے،تو جانب  حرمت راجح  معلوم ہوتی  ہے۔
في تكملة فتح المهلم:
واما الحنفية فالجمهور منهم في ديارنا على عدم حل المصيدبالرصاص مالم يدرك حيا،فيذبح بطريق مشروع،وحجتهم ما ذكره الرافعي من انه ان وقع الشك ولايدرى.مات بالجرح اوالثقل،كان حراما.
(كتاب الصيد والذبائح:3/491:ط:مكتبة دارالعلوم كراتشي)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 13 May 2026

واللہ اعلم بالصواب