سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-601 Fatwa no: 1448-601

حق مہر میں سونا اور مکان مقرر کر کے قیمت ساتھ لکھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ 2020ء میں ایک لڑکی اور لڑکے کے نکاح کا حق مہر پانچ ہزار نقد اور چار تولے سونا طے پایا، جس میں سے ایک تولہ موقع پر دیا گیا اور تین تولہ بعد میں دینا تھا، ساتھ ایک گھر پانچ مرلے کا جس میں صحن اور ایک کمرہ شامل ہے مقرر ہوا، ان دنوں یونین کونسل کے سیکرٹری نے نکاح خوانوں کو کہہ رکھا تھا کہ جو چیزیں مہر میں طے ہوں اس کی قیمت بھی لکھا کریں، نکاح خواں نے فریقین کی رضامندی سے اس موقع پر سونے اور گھر کی قیمت چار لاکھ 75 ہزار روپے لکھی۔ اتفاق سے اب میاں بیوی میں طلاق ہو چکی ہے لڑکی کہتی ہے کہ مجھے سونا اور گھر دیا جائے یا اس کی موجودہ قیمت دی جائے جبکہ لڑکے کا کہنا یہ ہے کہ چار لاکھ 75 ہزار جو مقرر ہوا تھا میں وہ دوں گا،شریعت محمدیہ کی روشنی میں اس مسئلے کا حل بتائیں کہ بیوی کا موقف درست ہے یا شوہر کا؟
جواب :

 بصورت مسئولہ  حق مہر میں چار تولہ سونا (جس میں سے ایک تولہ دیا گیا تھا) اور پانچ مرلے کا گھر (صحن اور کمرہ) طے ہوا تھا، اور ان اشیاء کی قیمت بطور اندازه كے  چار لاکھ پچھتر ہزار روپےلکھی گئی تھی نہ کہ مہر کے بدل کے طور پر ،تواصل مہر وہی ہو گا جونكاح كے وقت میں طے ہواہے یعنی بیوی بقیہ تین تولے سونا اور مکان یا اس کی موجودہ قیمت لینے کی حقدار ہےبصورت دیگراگر  فریقین نے بطور بدل مہر چار لاکھ پچھترہزار پر اتفاق کیا ہے توپھر شوہر کا موقف درست ہو گااور اس پر اتنی رقم ہی دینالاز م ہو گی۔
كما في الدرالمختار:
وَلَا يَجُوزُ دَفْعُ غَيْرِهِ مِنْ غَيْرِ رِضَاهَا فَكَانَ مُسْتَقِرًّا مَهْرًا بِنَفْسِهِ فِي ذِمَّتِهِ فَتُعْتَبَرُ قِيمَتُهُ يَوْمَ الِاسْتِقْرَارِ - وَهُوَ يَوْمُ الْعَقْدِ - فَأَمَّا الثَّوْبُ - وَإِنْ وُصِفَ - فَلَمْ يَتَقَرَّرْ مَهْرًا فِي الذِّمَّةِ بِنَفْسِهِ بَلْ الزَّوْجُ مُخَيَّرٌ فِي تَسْلِيمِهِ وَتَسْلِيمِ قِيمَتِهِ فِي إحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَلَى مَا نَذْكُرُ - إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى - وَإِنَّمَا يَتَقَرَّرُ مَهْرًا بِالتَّسْلِيمِ فَتُعْتَبَرُ قِيمَتُهُ يَوْمَ التَّسْلِيمِ
(بَيَانُ مَا يَصِحُّ تَسْمِيَتُهُ مَهْرًا،277،ج:2،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
وَأَمَّا) بَيَانُ مَا يَتَأَكَّدُ بِهِ الْمَهْرُ فَالْمَهْرُ يَتَأَكَّدُ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلَاثَةٍ.
الدُّخُولُ وَالْخَلْوَةُ الصَّحِيحَةُ وَمَوْتُ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ، سَوَاءٌ كَانَ مُسَمًّى أَوْ مَهْرَ الْمِثْلِ حَتَّى لَا يَسْقُطَ شَيْءٌ مِنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ إلَّا بِالْإِبْرَاءِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ،
(فَصْلٌ بَيَانُ مَا يَتَأَكَّدُ بِهِ الْمَهْرُ،ص:291،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الفقه الاسلامي:
ويكون للمرأة في التفريق قبل الدخول نصف المهر المسمى، وبعد الدخول يكون لها جميع المهر المسمى.
(الاقرار،ص:7291،ج:10،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 15 Aug 2026