سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-602 Fatwa no: 1448-602

حیض کے بعد غسل سے پہلے ہمبستری کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بیوی کی حیض کی مدت ختم ہونے کے بعد غسل سے قبل ہمبستری کر سکتے ہیں یا کتنے ٹائم بعد کرنی چاہیے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر بیوی کی عادت دس دن ہے تو  خون کے منقطع ہونے کے بعد غسل سے قبل ہمبستری کر سکتے ہیں ،البتہ بہتر یہی ہے کہ غسل کے بعد کی جائے ،لیکن اگر  اس کی عادت دس دن   سے کم ہے تو اس صورت میں خون بند ہونے کے بعدغسل  سے پہلے یا ایک نماز کا وقت گزرنے سے پہلے ہمبستری کرنا جائز نہیں  ہے۔
کمافي القرآن المجيد:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ
(البقرة،222)
وفي الدرالمختار:
(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لاكثره) بلا غسل وجوبابل ندبا.(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لاقله) فإن لدون عادتها لم يحل، أي الوطء وإن اغتسلت؛ لأن العود في العادة غالب بحر، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا، وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه(أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب."
(باب الحيض ،ص:294،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي البناية:
وإذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام لم يحل وطؤها حتى تغتسل لأن الدم يدر تارة، وينقطع أخرى، فلا بد من الاغتسال ليترجح جانب الانقطاع، ولو لم تغتسل ومضى عليها أدنى وقت الصلاة بقدر أن تقدر على الاغتسال والتحريمة حل وطؤها؛ لأن الصلاة صارت دينا في ذمتها فطهرت حكما،ولو انقطع الدم دون عادتها فوق الثلاث، لم يقربها حتى تمضي عادتها، وإن اغتسلت؛ لأن العود في العادة غالب فكان الاحتياط في الاجتناب، وإن انقطع الدم لعشرة أيام حل وطؤها قبل الغسل؛لأن الحيض لا مزيد له على العشرة إلا أنه لا يستحب قبل الاغتسال
(الحيض،ص:619،ج:1،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 15 Aug 2026