سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-605 Fatwa no: 1448-605

خوشدلی کے ساتھ گھر آنے پر طلاق کو معلق کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر نے کہا کہ میں اپنی بیوی (فلاں بنت فلاں )کو یہ موقع دیتا ہوں کہ وہ فلاں متعین تاریخ تک خوشدلی سے میرے گھر میں آجائے ،بصورت دیگر میری طرف سے اس کو ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی؟
جواب :

بصورت مسئولہ خوشدلی کا تعلق امور  باطنہ  سے ہے کہ جن کا معلوم کرنا   بغیر کسی دلیل(چاہے وہ اقرار کی صورت میں یا شھادۃ،قرائن کی) کے ممکن نہیں ہوتا ،لہذا  مذکورہ صورت میں اگر  بیوی کےاقرار  یاقرائن  یا گواہوں سے یہ معلوم ہوجائے کہ وہ خوشدلی سے متعین تاریخ کے اندر  واپس گھر میں آئی ہے تو اس صورت میں  طلاق واقع نہیں ہوگی بصورت دیگر اگر کوئی دلیل  نہ ہو توطلاق واقع ہوجائے گی جیسے کہ نہ آنے کی صورت میں واقع ہوجاتی ہے ۔
کمافي مجلة الاحكام:
دَلِيلُ الشَّيْءِ فِي الْأُمُورِ الْبَاطِنَةِ يَقُومُ مَقَامَهُ. يعني انه يحكم بالظاهر فيما يتعسر الاطلاع علي حقيقته...واثبت الحكم بثبوت الامارات الدالة علی العلة الحقيقية....ومنها قال لزوجتك ان كنت تحبيني بقلبك فانت طالق فقالت احبك بقلبي وفي قلبها غير ذلك يقع الطلاق عند ابي حنيفة..وجهه ان المحبة والكراهة لما كانا من الامور الباطنة التي لا يوقف عليها الا من جهتها.
(المادة72،ص:180 ،ج:1،ط:نور محمد)
وفي الفقه الاسلامي:
يجب على القاضي أن يقضي بما ثبت عنده بطرق الإثبات الشرعية: وهي البينة والإقرار واليمين والنكول ...أن البينة تظهر الحق بالاتفاق بشرط أن يثبت عند القاضي عدالة الشهود بالسؤال عنهم، ممن له علم بأحوالهم سراً وعلانية.
والإقرار حجة مطلقة؛ لأن الإنسان غير متهم بالإقرار على نفسه كاذباً.
(طرق إثبات الحق لدى القضاء،ص:5945،ج:8،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق.
(فصل،ج:3،ص:126،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 15 Aug 2026