سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-606 Fatwa no: 1448-606

ڈاکٹر کا میڈیسن کمپنی سے کمیشن اور تحائف لینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام میں ڈاکٹر عارف عزیز ہوں میں سر کاری اور پرائیویٹ کلینک میں اپنی ڈیو ٹی سر انجام دیتا ہوں میرا سوال یہ ہے کہ میں جو دوائی اپنی ڈیوٹی کے دوران مریض کو تجویز کرتا ہوں جو اس کے لیے بالکل فائدہ مند ہو تو کیا میں اس کے عوض میڈیسن کمپنی سے ڈاکٹر شیئر وصول کر سکتا ہوں ،اور اگر اس دوران میرا میڈیسن کمپنی سے کوئی فکسکڈ ٹارگٹ نہ ہو اور میں پیسوں کا مطالبہ بھی نہ کروں اور مریضوں کو بلا وجہ دوائی تجویز نہ کروں تو کیا میں کمپنی سے کیش ،تحفہ یا کسی اور صورت میں فیورلے سکتا ہوں؟
جواب :

صورت مسئولہ میں اگر  ایک ہی معیار کی  ایک ہی قسم کی دوائی دو الگ الگ کمپنی بناتی ہو ایک کمپنی کا ریٹ زیادہ اور دوسری کمپنی کاریٹ کم ہو اورڈاکٹر  مریض کے  فائدے کا خیال کرتےہوئے اس کو  سستی ا  ور کم قیمت کی دوا  لکھ کردیتاہےتواس صورت میں ڈاکٹر دوائی لکھنےمیں ايك طرح كااس کمپنی کا ایجنٹ بنا ہواہے  اور                 ایجنٹ کے   لیے طے شدہ انعام یا  رقم  لینا  جائز ہےاور اگر مریض کو قصداً مہنگی دوائی لکھے یا بلاضرورت زیادہ دوائی لکھے ؛تا کہ اس سے اس متعلقہ کمپنی کو فائدہ ہو  تو اس صورت میں مریض کو دھوکہ دے کر اسکانقصان  کر کے کمپنی سے انعام وصول  کرنا درست نہیں۔
کمافي الفقه الإسلامي:
 قال رسول اللهﷺ«استعينوا على أموركم بالمشاورة» ….«المستشار مؤتمن»….ولا يمكن مشاورة كل واحد من الناس (1) ، ففي أمور الدين يجب أن يكون المستشار عالماً دينياً وقل ما يكون ذلك إلا في عاقل. وفي أمور الدنيا أن يكون عاقلاً مجرباً وادّاً في المستشير.
(الشوریٰ،ص:323،ج:8،ط:دارالفکر)
وفي الموسوعة الفقهية:
ما يلزم المستشار في مشورته : ۔ على من استشير أن يصدق في مشورته لقول النبي صلى الله عليه وسلم : المستشار مؤتمن (3) ولقوله : الدين النصيحة…وسواء استشير في أمر نفسه أم في أمر غيره .
(ما يلزم المستشار في مشورته ،ص:283، ج:26،ط:دارالفکر)
وفي ردالمحتار:
مطلب في أجرة الدلال (تتمة) قال في التاترخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم 
 وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه.
(كتاب الاجارة،ص:318،ج:24،ط؛دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 15 Aug 2026