سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-607 Fatwa no: 1448-607

دانت پر کراؤن لگانے کے بعد غسل کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا دانت پر خول چڑھانے (کراؤننگ) کے بعد غسل ہو جا تا ہے یا نہیں (کیونکہ کلی کرنا غسل کے فرائض میں شامل ہے)؛ کیونکہ نیل پالش لگانے کے بعد وضوء نہیں ہوتا، مگر دانت کی کراؤننگ میڈیکل کی ضرورت کی تحت کی جاتی ہے ؟
جواب :

دانتوں پر  خول  اس طرح چڑھے ہوتے ہیں کہ ان کا جدا کرنا ممکن نہیں    ہوتااور جو چیز کسی  شیء کے ساتھ اس طرح  مل جائے کہ اس کو جدا کرنا ممکن نہ ہو  تو وہ  اس کے ظاہری حکم میں داخل ہو جاتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں دانتوں پر چڑھے ہوئےخول  دانتوں کے حکم میں داخل ہیں ؛اس لیے  اس کو اتارے بغیر  غسل کرنا جائز ہے،جبکہ نیل پالش  نا خنوں سے  اس طرح  ملی ہوئی  نہیں ہوتی کہ اس کا جدا کرنا  ممکن نہ ہو  ؛اس لیے اس کو اتارے بغیر   وضوء یا غسل کامل نہیں ہوتا  ہے۔
كما في الدر المختار مع رد المحتار:
 (وَيَجِبُ) أَيْ يُفْرَضُ (غَسْلُ) كُلِّ مَا يُمْكِنُ مِنْ الْبَدَنِ بِلَاحَرَجٍ مَرَّةً……(وَ) لَا يَمْنَعُ (مَا عَلَى ظُفْرِ صَبَّاغٍ وَ) لَا (طَعَامٌ بَيْنَ أَسْنَانِهِ) أَوْ فِي سِنِّهِ الْمُجَوَّفِ بِهِ يُفْتَى. وَقِيلَ إنْ صُلْبًا مَنَعَ، وَهُوَ الْأَصَحُّ.
(قَوْلُهُ: إنْ صُلْبًا) بِضَمِّ الصَّادِ الْمُهْمَلَةِ وَسُكُونِ اللَّامِ وَهُوَ الشَّدِيدُ حِلْيَةٌ: أَيْ إنْ كَانَ مَمْضُوغًا مَضْغًا مُتَأَكِّدًا، بِحَيْثُ تَدَاخَلَتْ أَجْزَاؤُهُ وَصَارَ لَهُ لُزُوجَةٌ وَعِلَاكَةٌ كَالْعَجِينِ شَرْحُ الْمُنْيَةِ.
(قَوْلُهُ: وَهُوَ الْأَصَحُّ) صَرَّحَ بِهِ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ وَقَالَ لِامْتِنَاعِ نُفُوذِ الْمَاءِ مَعَ عَدَمِ الضَّرُورَةِ وَالْحَرَجِ.
(فرض الغسل،ص:152،ج:1،ط: دار الفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
ولو كان سنه مجوفا فبقي فيه أو بين أسنانه طعام أو درن رطب في أنفه ثم غسله على الأصح….والصباغ ما في ظفرهما يمنع تمام الاغتسال وقيل كل ذلك يجزيهم للحرج والضرورة، ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع. كذا في الظهيرية.
(فرائض الغسل،ص:13،ج:1،ط: دار الفكر)

وفيه ايضا:
وذكر الحاكم في المنتقى لو تحركت سن رجل وخاف سقوطها فشدها بالذهب أو بالفضة لم يكن به بأس عند أبي حنيفة.
(الكراهة في الاكل،ص:336،ج:5،ط: دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 15 Aug 2026