سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-608 Fatwa no: 1448-608

درزی کا ایک شخص کے کپڑوں کودوسرے شخص کو دینے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے درزی کو کپڑے سینے کے لیے دیے تھےپھر جب وہ شخص کپڑے لینے کے لیے درزی کے پاس گیا تو درزی نے اس سے کہا کہ سامنے سے اپنے کپڑے اٹھا لو ،اس جگہ پر ایک اور آدمی کے ا سی رنگ کے کپڑے رکھے ہوئے تھے جس رنگ کے اس آدمی کے تھےاس نے غلطی سے اپنے کپڑوں کے بجائے دوسرے شخص کے کپڑے اٹھا لیے،دو دن پہننے کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ یہ اس کے کپڑے نہیں ہیں پھر اس نے ان کپڑوں کو واپس کر دیا ، اس کے بارے میں معلوم ہونے پر اصل مالک درزی سے کہتا ہے اب تم مجھے اس دو دن کا تاوان دو گے اس لیے کہ تمہاری وجہ سے یہ کپڑے ایک دفعہ پہننے سے پرانے ہوگئے ہیں نئے نہیں رہے ،اور درزی دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ میں تمہارے کپڑے تب تک نہیں دوں گا جب تک تم مجھے اس کا تاوان نہ دے دو جس کا اصلی مالک مجھ سے مطالبہ کر رہا ہےآیا اس شخص کا درزی سے تا وان لینا اور پھر درذی کا دوسرے شخص سے مطالبہ کرناجائز ہے ؟
جواب :

واضح رہے کہ اجیر مشترک(جو لوگوں  سے پیسے لے کر ان کے کام کرتاہے)امین ہوتا ہے اور اگر امین   حفاطت میں کوتاہی کرے جس  کی وجہ سے  امانت  میں دی ہوئی چیز کا ایسا وصف جس سے تاجروں کے ہاں   قیمت میں کمی آتی ہو ختم ہو جائے   تو اس صورت میں امین ضامن ہوتا ہے،لہذا صورت  مسئولہ میں درزی  کو چاہیے  تھا کہ وہ  کپڑے خود مالک کو اٹھا کر دیتا مگر اس نے یہ کہا کہ سامنے سے اٹھالو  یہ اس کی لاپرواہی ہےاور اگر  تاجروں کے ہاں ایک دفعہ کپڑا ستعمال کرنے سے اس کی  بازاری قیمت میں کمی آتی ہو اور وہ پرانا شمار ہوتا ہو  تو کپڑے کی قیمت میں جتنی کمی ہوئی ہے اس کا تاوان  درزی سے(لاپرواہی کی وجہ سے)   لے سکتا ہے ،تاہم اگر  تاجروں کے ہاں  ایک دفعہ کپڑا استعمال کرنے سے اس کی بازاری  قیمت میں کمی نہ آتی ہو تو مذکورہ شخص کا درزی سے تاوان لینا درست نہیں،نیز درزی کا  دوسرے شخص کے کپڑوں کو نہ دینا  اور  اس سے تاوان کا مطالبہ کرنا  جائز نہیں۔
تبيين الحقائق:
وقد بيناه وبقولهما يفتى اليوم لتغير أحوال الناس وبه تحصل صيانة أموالهم , وإن شرط الضمان على الأجير المشترك في العقد فإن شرط عليه فيما لا يمكن الاحتراز عنه لا يجوز بالإجماع.
(باب الخلع ،ص:135،ج:5،ط:دارالفكر)
العناية:
 ( وكل ما أوجب نقصان الثمن في عادة التجار فهو عيب لأن التضرر بنقصان المالية ) ونقصان المالية ( بانتقاص القيمة ، فالنقص بانتقاص القيمة والمرجع في معرفته عرف أهله.
(باب الخيار العيب ،ص:31،ج:9،ط:دارالفكر)
دررالأحكام:
النقصان الحاصل بفوات معنى مرغوب ومعتبر موجود في عين المغصوب هو النقصان الذي يكون بفوات المعنى المرغوب المعتبر في عين المغصوب . لو غصب أحد عبدا ذا صناعة ونسي صناعته وهو في يد الغاصب أو غصبه شابا فشاخ فهذا النقصان يوجب الضمان أيضا…المسألة الخامسة - تعدي الأجير أو تقصيره هو غصب حكمي.
المادة:ص:496،ج:2،ط:دار الفكر))
المبسوط:
فأما المودع لا يضمن بالإمساك بل بالاستعمال وقد زال ذلك كله حتى أن في الإجارة إذا لم يضمن بالإمساك بريء بترك الخلاف على ما قال في الإجارات إذا استأجرت المرأة ثوب صيانة لتلبسه أياما فلبست بالليل كانت ضامنة فإذا جاء النهار برئت لأن الضمان عليها بالاستعمال ليلا دون الإمساك.
(كتاب الضمان،ص:210،ج:11،ط:دار الفكر)
الفقه الاسلامي:
الأمانة إلى صفة الضمان: إذا كان الشيء المأجور، كثوب الصباغة والخياطة والمتاع المحمول في السفينة أو على الدابة، يعتبر أمانة في يد الأجير، فذلك بحسب الأصل العام عند أبي حنيفة ومن وافقه، وبناء عليه ، قد تتغير صفة الأمانة إلى الضمان في الأحوال الآتية (1) :
أولاً ـ ترك الحفظ: أي أن الأجير يهمل في حفظ المتاع، فيلتزم بضمانه؛ لأن الأجير لما قبض المأجور فقد التزم حفظه، وترك الحفظ موجب للضمان، كالوديع إذا ترك حفظ الوديعة حتى ضاعت.
(كتاب الإجارة،ص:565،ج:4،ط:رشيدية)
وفیہ ايضا:
يضمن المتسبب وحده إذا كان متعديا،وتعذر تضمين المباشر لكونه غير مسؤول،أو غير موجود أو غير معروف،كما في الأمثلة الآتية:
لودفع شخص إلى صبي سكينا ليمسكه له،فوقع عليه فجرحته،كان الضمان على الدافع،لأن السبب هنا يشتمل على معنى التعدي لكون الصبي لم يباشر فعلا معينا فهو غير مسؤول،والسكين بطبيعتها آلة جارحة.
(كتاب الضمان،ج:9،ص:808،ط:مكتبه رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 15 Aug 2026