سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-609 Fatwa no: 1448-609

ارادہ وقف سے وقف تام نہیں ہوتا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے کہا تھا کہ میں اپنی زمین میں سے دس مرلے جو میرے گھر کے ساتھ متصل ہیں ان پر مسجد بناؤں گا،لیکن کچھ مہینوں بعد وہ فوت ہوگیا،اب ورثاء پر لازم ہے کہ اس جگہ مسجد بنائیں یا نہیں؟
جواب :

وقف  میں ایسے الفاظ کا ادا کرنا ضروری ہے جو وقف کے صحیح ہونے  پر دلات کرے صرف ارادہ وقف سے وقف تام نہیں ہوتا،لہذا اگر کسی آدمی  نے کہا تھا کہ کہ میں اپنی زمین میں سے دس مرلے جو میرے گھر  کے ساتھ متصل ہیں ان پر مسجد  بناؤں گا یہ وقف نہیں ہے،بلکہ ارادہ وقف ہے اور اس شخص کے مرنے کے بعد ورثاء پر اس زمین کو وقف کرنا لازم نہیں ہوگا۔
الدرالمختار:
(وركنه الألفاظ الخاصة ك) أرضي هذه (صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ونحوه) من الألفاظ كموقوفة لله تعالى أو على وجه الخير أو البر واكتفى أبو يوسف بلفظ موقوفة فقط.. (قوله: واكتفى أبو يوسف بلفظ: موقوفة إلخ) أي بدون ذكر تأبيد أو ما يدل عليه كلفظ صدقة.... (وأن يكون) قربة في ذاته معلوما (منجزا) لا معلقا.
(الوقف،۳۴۱،۳۴۰/۱،دارالفکر)
الفقه الاسلامي:
الشرط الثاني ـ التنجيز: بأن يكون منجزاً في الحال غير معلَّق بشرط ولا مضاف إلى وقت في المستقبل؛ لأنه عقد (التزام) يقتضي نقل الملك في الحال.
(الوقف،۷۶۵۸/۱۰،دارالفکر)
طحطاوي:
(وأن يكون) قربة في ذاته معلوما (منجزا) لا معلقا..(قوله منجزا لا معلقا)لانه لايخلف به،وتعليق كل مالايحلف به لايصح.
(الوقف،۵۹۶/۶،الوحيدية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026