سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-610 Fatwa no: 1448-610

دو مہینے بعد شوہر کے فوت ہونے کی خبر ملنے پر عدت کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی عورت کا شوہر باہر ملک میں فوت ہو جائے اور اس کو دو مہینے کے بعد پتہ لگ جائے کہ میرا شوہر فوت ہو گیا ہے ،اب یہ عورت اپنی عدت فوتگی والے دن سے شمار کرے گی یا جس دن اس کو اطلاع مل گئی اس دن سے؟
جواب :

بیوہ عورت ( جس کا شوہر  فوت ہو گیا ہو) اس کی عدت ( چار ماہ دس دن)  شوہر کے وفات کے وقت سے شمار ہو گی،لہذا اگر کسی عورت  کو اس کے شوہر کی وفات کی خبر دو ماہ بعد ملی ہو تو اس عورت  کی عدت شوہر کے فوتگی  والے دن سے شمار ہو گی  اور مزید دوماہ دس  دن عدت گزارے گی۔
الدرالمختار:
(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه... (قوله: لأنها أجل) أي لأن العدة أجل فلا يشترط العلم بمضيه أي بمضي الأول
(العدة،۵۲۰/۳،دارالفكر)
المبسوط:
(والرابع) أن عدة الوفاة معتبرة من وقت الزوج عندنا،...ولكنا نقول العدة مجرد مضي المدة وذلك يتحقق بدون علمها
(العدة،۳۱/۶،دار المعرفة)
البناية:
وعدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشر. لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.. (وعدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشر) ش: أي عدة المرأة الحرة التي مات عنها زوجها أربعة أشهر وعشرة أيام، سواء كانت ممن تحيض أو ممن لا تحيض، مسلمة كانت أو كتابية صغيرة كانت أو كبيرة، مدخولا بها أو غير مدخول بها، آيسة كانت أو غير آيسة، وزوجها حرا أو عبد.. أن عدتها معتبرة من وقت الوفاة عند الأكثر
(العدة،۵۹۹/۵،دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Aug 2026