سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-612 Fatwa no: 1448-612

دکان کی رقم ذاتی استعمال میں لانے سے نماز پر اثر پڑنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندے کو مالک نے دکان میں اختیار دیا تو اس نے اس کا غلط فائدہ اٹھا کر اس کے کچھ پیسے اپنے کام میں استعمال کیے اور وہ کہتا کہ اس کو میں واپس کردونگا،لیکن ابھی میرے پاس پیسے نہیں ہے ،سوال یہ ہے کیا یہ پیسے حرام ہے، اگر حرام ہیں تو اب یہ جو نماز وغیرہ اچھے اعمال کرتا ہے ان پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؛کیونکہ اس نے مال تو حرام کھایا ہے؟
جواب :

بصورت مسئولہ  مذکورہ شخص کا   مالک کی اجازت کے بغیر دکان کے پیسوں کو اپنے ذاتی کام میں استعمال کرنا  جائز نہیں ،کیونکہ دکان کی رقم    اس کے پاس امانت تھی اور امانت میں بغیر مالک کی اجازت کی تصرف کرنا جائز نہیں   ؛اس لیے اجازت کے بغیر رقم لینے کی وجہ سے مذکورہ شخص گناہگار  ہو چکا ہے اور اس  کے ذمہ مذکورہ رقم واپس  کرنا ضروری ہے،تاہم حرام مال کے استعمال کی وجہ سے نمازیں اور دیگر اعمال کرنے سے فریضہ  تو  اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا ،لیکن اس پر  اس کو کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
كما في المعجم الاوسط:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تُلِيَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا}.....وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ الْعَبْدَ لَيَقْذِفُ اللُّقْمَةَ الْحَرَامَ فِي جَوْفِهِ مَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ عَمَلَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا،
(من اسمه محمد،ص:310،ج:6،ط: دار الحرمين)
وفي الفقه الاسلامي:
اتفق أئمة المذاهب وهم (الحنفية والمالكية والشافعية والحنابلة) على أنه لا يكون ضامناً العين التي تسلم إليه للعمل فيها؛ لأن يده يد أمانة كالوكيل والمضارب، كما إذا استأجر إنسان خياطاً أو حداداً مدة يوم أو شهر ليعمل له وحده، فلا يضمن العين التي تهلك في يده، ما لم يحصل منه تعدٍ أو تقصير في حفظه، سواء تلف الشيء في يده أو أثناء عمله.
(كتاب الإجارة،ص:3847،ج:5،ط: دار الفكر)
وفي المبسوط:
فأما المودع لا يضمن بالإمساك بل بالاستعمال وقد زال ذلك كله حتى أن في الإجارة إذا لم يضمن بالإمساك بريء بترك الخلاف على ما قال في الإجارات إذا استأجرت المرأة ثوب صيانة لتلبسه أياما فلبست بالليل كانت ضامنة فإذا جاء النهار برئت لأن الضمان عليها بالاستعمال ليلا دون الإمساك.
(كتاب الضمان،ص:210،ج:11،ط:دار الفكر)

وفي الفتاوي البزازية:
(الخامس في الوكالة بالشراء) الوكيل به أنفق الدراهم على نفسه ثم اشترى ما أمر بدراهم من عنده فالمشتري للوكيل لا للآمر في المختار، وفي الأصل اشترى بدنانير من عنده ثم نقد دنانير الموكل فالشراء للوكيل ويضمن مال الموكل للتعدي
(الدعوی،ص:195،ج:6،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 16 Aug 2026