نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں واضح رہے کہ عندالاحناف رہن کے صحیح ہو نے کے لیے ضروری ہے کہ جو چیز رہن رکھوائی جارہی ہے وہ عقد کے وقت موجود ہو اورمر تھن کا اس پر حقیقی طور پر قبضہ کرنا ممکن ہو ،لہذا صورت مسئولہ میں زید کا پچاس ہزار روپے جو عمر پر دین ہے اس کو بطور رہن رکھوانا درست نہیں اس لیے کہ احناف کے نزدیک رہن قبضہ کرنے سے تام ہوتا ہے اور دین پر فی الوقت قبضہ ثابت نہیں ہوا اس لیے دین کا رہن رکھوانا درست نہیں ۔
كما في الدرالمختار:
(فَإِذَا سَلَّمَهُ وَقَبَضَهُ الْمُرْتَهِنُ) حَالَ كَوْنِهِ (مَحُوزًا).. (مُفَرَّغًا) لَا مَشْغُولًا بِحَقِّ الرَّاهِنِ..(مُمَيَّزًا) لَا مُشَاعًا وَلَوْ حُكْمًا... أَفَادَ أَنَّ الْقَبْضَ شَرْطُ اللُّزُومِ.... (وَالتَّخْلِيَةِ) بَيْنَ الرَّهْنِ وَالْمُرْتَهِنِ (قَبَضَ) حُكْمًا عَلَى الظَّاهِرِ (كَالْبَيْعِ) فَإِنَّهَا فِيهِ أَيْضًا قَبْضٌ..لَا يَجُوزُ الرَّهْنُ إلَّا مَقْبُوضًا، وَمِثْلُهُ فِي كَافِي الْحَاكِمِ وَمُخْتَصَرِ الطَّحَاوِيِّ وَالْكَرْخِيِّ
(كتاب الرهن،ص:481،ج:1،ط:دارالفكر)
وفي الفقه الاسلامي:
فقال الحنفية : لا يجوز رهن الدين؛ لأنه ليس مالاً لأن المال عندهم لا يكون إلا عيناً، ولا يتصور فيه القبض، والقبض لا يكون إلا للعين. فلو كان خالد دائناً لعمر بمئة دينار، وعمر دائن لخالد بمئة مد حنطة، لم يجز لعمر أن يجعل دينه من الحنطة رهناً عند خالد بدينه الذي يستحقه قبل عمر، فهذا رهن الدين عند المدين، حيث جعل الدين الذي للدائن رهناً في الدائن الذي عليه.
(رهن الدين،ص:4258،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي تحفة الفقهاء:
وَلَو بَاعَ الرَّاهِن أَو الْمُرْتَهن وَأَجَازَ صَاحبه فَإِنَّهُ يجوز البيع وَيصير الثّمن رهنا مَكَانَهُ قبض من المُشْتَرِي أَو لم يقبض لِأَن الثّمن قَائِم مقَام الرَّهْن وَإِن كَانَ الثّمن فِي ذمَّة المُشْتَرِي وَلَا يجوز رهن الدّين
(كتاب الرَّهْن،ص:43،ج:3،ط: دار الكتب العلمية)
وفي تجريد القدوري:
احتجوا: بأنه عين يجوز بيعها، فجاز رهنها، كالمقسوم. ومنهم من قال: يجوز بيعها في محل الحق...والجواب: أنا لا نسلم أن المشاع عين لا يمكنه أن يشير إليه، فيعقد عليه ولا يسلمه ثانيا، فسقط هذا الوصف، وبطل بالدين في الذمة فإن بيعه يجوز ممن هو في ذمته، ولا يجوز رهنه منه، ولا من غيره، وقد قال بعضهم: إن رهن الدين] يصح [إذا قلنا: إن تمليكه من غير من هو عليه حائز، ويقبضه المرتهن، فيلزم العقد بالقبض.
(رهن المشاع،ص:2751،ج:6،ط: دار السلام)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 16 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔