سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-614 Fatwa no: 1448-614

دينی امورمیں کوتاہی کی وجہ سے محرم رشتہ داروں سے بائیکاٹ کرنے کا ح

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک بھائی جوکہ دنیاوی تعلیم کےاعتبار سے ایم-بی-بی ایس اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے شادی کےبعد سے ہی بیرون ملک میں رہائش پزیر ہے اور صاحب اولاد بھی ہے اولاد ہونے کے باوجود کچھ عرصہ بعد ہی دونوں میاں بیوی کے درمیان ازدواجیت کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوگئے جن میں سب سے اہم بقول اس کی زوجہ کے اس کا خاوندنامرد ہے اور ازدواجی تعلقات نبھانے کے قابل نہیں ہے انہی اختلافات کی بنیاد پر بات طلاق تک پہنچ گئی اور میرے بھائی نے ایک ہی محفل میں تین بار طلاق کے الفاظ ادا کر دیے یہ واقعہ سن 2020 میں پیش آیا طلاق کے باوجود دونوں ایک ساتھ رہائش پزیر ہیں اور بطور میاں بیوی رہ رہے ہیں ہم بھائیوں منیب مجاہد، شعیب مجاہد اور زوہیب مجاہد کے سمجھانے کے باوجود طلاق واقع ہونے کے بعد بھی علیحدگی اختیار نہیں کر رہے ہیں ہمارے والدین والد اور والدہ ان کے اس ناجائز رشتے کو قبول کیے ہوئے ہیں اوراس معاملے میں ان کا پورا ساتھ دے رہے ہیں ۔ مسئلہ نمبر2: ہماری اکلوتی ہمشیرہ جوکہ اپنے پہلے خاوند کے نکاح میں رہتے ہوئی بدکاری،زناکاری میں ملوث رہی ہمارے علم کےمطابق رشتے میں چچا کے ساتھ ملوث تھی اس کے بعد ہماری ہمشیرہ نےکسی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے شخص سے تعلقات قائم کیے اپنا گھر اور تین سالہ بیٹا چھوڑ کر بھاگ گئی اور اپنے خاوند سے بغیر کسی نوٹس اور اطلاع کے عدالتی خلع حاصل کر لی جس کا علم نہ تو شوہر اور نہ ہی ہمارے والدین کو ہوا،پہلے شوہر کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کر کے رہنے لگی اس واقعہ کےبعدہمشیرہ نےاپنے والدین ،بھائیوں ،شوہر اور بیٹے سے کسی قسم کاتعلق اور رابطہ نہیں رکھا دوسرے شخص سے شادی کے بعد ایک بیٹی پیدا ہوئی اور چند سال اس شخص کے ساتھ گزارنے کے بعداپنے پہلے خاوند سے رابطہ کیا اور پھر دوسرے شوہر کو چھوڑ کر دوبارہ پہلے شوہر کے پاس بھاگ آ گئی اور اپنے ہمراہ بیٹی کو بھی لے آئی ہماری ہمشیرہ غیر مردوں کے ساتھ روابط قائم کرتی ہے خصوصاً جادوگر اور جعلی پیروں وغیرہ۔ مسئلہ نمبر3: ہماری خالہ مرحومہ جو کہ بے اولاد تھیں انہوں نے ایک لڑکا جو کہ ان کے مرحوم شوہر کے بھائی کی اولاد تھا اس کو لے کر پالا،ہمارے والدین جو کہ خاندان میں اپنی حیثیت اور عمر کے اعتبارسے بڑ ے ہیں وراثت کی تقسیم کے معاملے میں شریعت کی بجائے اپنی دلی تسکین، کینہ اور بغض کی بنا پر لے پالک کو جائیداد میں ناجائز حصہ دلوانے اور اس کی مدد کرنے میں ملوث ہیں ۔ مسئلہ نمبر4: ہمارے والد محترم وہ اللہ پاک کی دی ہوئی ہر نعمت،اولاد،رزق اور کاروبارہونے کے باوجود غیر شرعی رشتے،نامحرم عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات اور زناکاری میں ملوث پا ئےگئے،حالیہ چند سال پہلے ہی انہوں نے ایک عیسائی عورت سے ناجائز تعلقات قائم کیے اور پھر نکاح کرلیا،اس عورت کو محض اپنی خواہشات کی بنا پر کلمہ پڑھایا گیا وہ عورت اب ان کے نکاح میں تقریباً آٹھ سال سے ہے،لیکن دین پر عمل نہیں کرتی ،نمازنہیں پڑھتی، پردے کا اہتمام نہیں کرتی،بلکہ سوشل میڈیا ،ٹک ٹاک پر بیہودہ اور پے پردگی کے ساتھ ویڈیوز شائع کرتی ہے اس عورت کے دو عیسائی بیٹے بھی پہلے خاوند سے ہےسری لنکا میں موجود ہیں جو کہ مسلمان نہیں اور بطور پادری تعلیم حاصل کر رہے ہیں ہمارے والد ان کی مالی امدا د کر رہے ہیں اور ان کو ایک عدد پلاٹ بھی خرید کر دیا ہے اور اس امداد کو وہ نیکی اور ثواب کی نیت سے دے رہے ہیں ۔ مسئلہ نمبر5: مسئلہ نمبر 1،2،3،4، کے پیش نظر والد محترم غیر شرعی فیصلے کرتے ہیں اپنے دو بيٹوں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیگمات جو کہ مسلمان ہیں ،پردہ کرتی ہیں ،صوم صلاۃ کی پابندی اختیارکر تی ہیں اور دین پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرتی ہیں ان کو طلاق دلوانے پر بضد ہیں ان کی بیگمات اور ان کے اہل خانہ کو برا بھلا کہتے ہیں گالم گلوچ کرتے ہیں ہم اپنے والد کے اس ناجائز حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمیں نافرمان اولاد کہتے ہیں۔ مسئلہ نمبر6: ہماری والدہ محترمہ جادو ، ٹونے کرنےکروانے اور جادوگروں کے پاس جانے میں ملوث ہیں ہمارے ایک بھائی کی زوجہ جادو کے اثرات کی وجہ سے گزشتہ 10 سال سے شدید بیمار ہیں اور ان کی جادوئی معاملات میں ہماری والدہ ملوث ہیں جس کی جشم دید گواہ ہماری ہمشیرہ ہے ۔ ان تمام معاملات کے پیش نظر ہم تینوں بھائی اپنے والدین کے گھر جانے سے گریز کرتے ہیں ان تمام مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے دین اسلام کے مطابق ہماری رہنمائی فرمائیں ؟
جواب :

جوابات  سوالات کےمطابق دیے جاتے ہیں کہ جو سوال میں پوچھا گیا ہےاس ہی کا جواب دیا جاتاہے ؛اس لیے سوالات کے اندر اگر غلط بیانی کی گئی ہو تو اس کا وبال سوال  پوچھنے والے پر  ہی ہوگا۔
مسئلہ نمبر 1: تین طلاق ہونے کے بعد بھی  مياں بيوی کا اکٹھے رہنا:
ایک ہی مجلس میں تین بار طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور نکاح بھی ختم ہوجاتا ہے  اس کے بعدعورت اپنے شوہر پر  بغیر حلالے کے حلال نہیں ہوتی  ،لہذا صورت مسئولہ میں آپ کے بھائی کا ایک ہی مجلس میں تین بار طلاق کے الفاظ ادا کرنے  سے  اس کی    بیوی کوتین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں  اور نکاح ختم ہو گیا ہے۔ ان کے لیے آپس میں میاں بیوی کی طرح رہنا حرام ہے، چونکہ  تین طلاقیں دی ہیں ؛اس لیے دوبارہ نکاح کی بھی کوئی صورت نہیں ،إلا يہ کہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کر ے اس سے  ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اور پهر وہ طلاق دے یا فوت ہو جائے، تو عدت گزارنے كے بعد عورت آزاد ہو گی،لہذا  انہیں  چاہیے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں  اور اس پر توبہ استغفار بھی کریں اورآپ کے  والدین کا اس میں ان کا ساتھ دینا بھی گناہ میں تعاون ہے ان کو بھی اپنے اس  کام سے توبہ کرنی چاہیے۔
مسئلہ نمبر 2: ہمشیرہ کے غیر  مردوں سے ناجائز تعلقات:
ایک عورت کے لیے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور مرد سے  ناجائز تعلق یا نکاح کرنا حرام ہے،لہذا صورت مسئولہ میں آپ کی ہمشیرہ  کاا  اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے دوسرے مردوں کے ساتھ ناجائزتعلقات(زناکاری،بدکاری وغیرہ)  قائم کرنا   کبیرہ گناہ  اور حرام ہے ایسے عمل پر توبہ ضروری ہے،نیز  ان کا اپنے   شوہر کو اطلاع دیے بغیر  خلع   حاصل کرلینےاور نکاح کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا  ،بلکہ اس کا   پہلا نکاح باقی  ہےاوردوسرا نکاح  جو اس   نےکسی شیعہ مسلک والے سے کیا تھا وہ باطل تھا،البتہ اب  پہلے شوہر کے پاس واپس آنے کے بعداس کے لیے  ضروری ہے کہ وہ اپنے عمل پر سچی توبہ کرےاوراستغفار کرے۔
مسئلہ نمبر 3: لے پالک کو جائیداد میں حصہ دینا:
وراثت اصلی وارثوں کے علاوہ  میں تقسیم نہیں  ہو تی ،لہذا صورت مسئولہ میں آپ کی  خالہ نے  اپنے دیور (شوہر کا بھائی) سے  جو بیٹالے کر  پالاہے  اس کا وراثت میں  کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ اگر  آپ کی خالہ نے اپنی زندگی میں اسے کچھ  ہبہ   کیا یا وصیت(  جو تہائی مال کے اندرہو)  کی ہو  وہ اس کو دی جائے گی اور آپ کے والدین کا  میت کے اصل وارثوں کے حق کو ناجائز طریقے سے لے پالک (بیٹے)کے لیے حاصل کروانے کی کوشش کرنا    اصل وارثوں پرظلم ہے    ان کو ان کاموں سے  توبہ  کرنی چاہیے۔
مسئلہ نمبر 4: والد کے ناجائز تعلقات، نکاح اور غیر مسلموں کی مدد
نامحرم عورتوں سے  ناجائز تعلقات  قائم کرناکبیرہ گناہ ہے،لہذا صورت مسئولہ میں  آپ کے والدکا نامحرم عورتوں   کے ساتھ  ناجائز تعلقات اور زناکاری میں  مبتلا ہوناشرعاًناجائز  اور حرام ہے ان کو اس سے توبہ کرنی چاہیے  ،البتہ آپ کے والد  کا عیسائی عورت   کو کلمہ پڑھا کر نکاح  کرنا  درست ہے،لیکن  بیوی کو بے حیائی کی کھلی چھوٹ دینا نہ صرف یہ کہ حرام ہے ،بلکہ حد درجہ کی بغیرتی ہےاور جہاں تک تعلق ہے  آپ کے والد  کاغیر مسلم بیٹوں کی پادری تعلیم حاصل کرنے میں  معاونت کرنے  کا،تو وہ جائز نہیں، کیونکہ یہ  دین اسلام  کےخلاف دوسرے  دین  کی ترقی  میں  مدد کرنا ہے  ۔
مسئلہ نمبر 5: بیویوں کو طلاق  دینے پر مجبور کرنا:
 والدین کی اطاعت اولاد پر گناہ کے کاموں میں  جائزنہیں  ہے، لہذا صورت مسئولہ میں والد کا بغیر کسی شرعی وجہ کے اپنے بیٹوں کو طلاق دینے پر مجبور کرنا  بہت بڑا ظلم اور گناہ ہے،اس لیے  بیٹوں کا اپنے والد کا اس معاملے میں انکار کرنا  شرعاً درست ہے   اور والد کی ایسی بات نہ ماننے میں کوئی نافرمانی نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر 6: والدہ کا جادوگروں سے تعلق :
جادوگروں کے پاس جانااورجادو کرنا یا کروانا کبیرہ گناہ ہے،لہذا صورت مسئولہ میں  اگر واقعی  آپ  کی والدہ اس میں ملوث ہیں تو یہ سنگین شرعی جرم ہے، انہیں فوراً توبہ اور اس سے بچنے کی کوشش کرنی  چاہیے۔
نیز  والدين اگر اپنی اولادكو كبيره گناه كرنے پر مجبور كرتے ہیں  تو اس صورت ميں ان سے علیحدگی اختیار کرنا درست ہے  ،لیکن ان کو سمجھانے کی  کوشش کی جائے   بالکل ہی قطع تعلقی  کرنا  درست نہیں ۔
کما في القرآن المجيد:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
(البقرة:آية:229،پاره:2)
وفيه ايضا:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ…. وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
(النساء،آية:24،پاره:4،5)
وفيه ايضا:
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ
(الاحزاب،آية:5 ،پاره:21)
وفيه ايضا:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
(الاسراء،آية:32،پاره:15)
وفيه ايضا:
لَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ
(البقرة،آية:102،پاره:1)
وفيه ايضا:
وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا
(لقمن،آية،13،پاره:21)
وفي تفسير ابن كثير:
وقَوْلُهُ تعالى: {وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} يَأْمُرُ تَعَالَى عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالْمُعَاوَنَةِ عَلَى فِعْلِ الْخَيْرَاتِ وَهُوَ الْبَرُّ، وَتَرْكِ الْمُنْكِرَاتِ وَهُوَ التَّقْوَى، وَيَنْهَاهُمْ عَنِ التَّنَاصُرِ عَلَى الْبَاطِلِ وَالتَّعَاوُنِ عَلَى الْمَآثِمِ وَالْمَحَارِمِ، 
(المائدة،ص:478،ج:1،ط: دار القرآن الكريم)
وفي تفسير مظهري:
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ….. فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث
(الاحزاب،ص:284،ج:7،ط: مكتبة الرشدية)
وفي صحيح المسلم:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ "…. قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَتَعْلَمُ أَنَّمَا «كَانَتِ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ»؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «نَعَمْ»
(الطلاق الثلاث،ص:1099،ج:2،ط : دار إحياء التراث العربي)
وفي سنن ابي داؤد:
سمعت أبا أمامةَ، سمعتُ رسولَ الله - صلَّى الله عليه وسلم - يقول: "إن الله قَدْ أعطى كل ذي حقٍّ حقهُ، فلا وصيةَ لِوَارثٍ
(باب في الوصيةِ للوارث،ص:492،ج:4،ط: دار الرسالة العالمية)
وفيه ايضا:
عن ابنِ عُمَرَ، عن النبي - صلَّى الله عليه وسلم - قال: "أَبغَضُ الحَلاَلِ إلى اللهِ عزَّ وجلَّ الطَّلاَقُ"
( باب في طلاق السنة،ص:505،ج:3،ط: دار الرسالة العالمية)
وفيه ايضا:
لا طاعةَ  في معصيةِ اللهِ، إنما الطاعةُ في المعروفِ
(باب في الطاعة،ص:265،ج:4،ط: دار الرسالة العالمية)
وفي المستدرك الحاكم:
عنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ فِيمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
(كتاب الايمان،ص:49،ج:1،ط: دار الكتب العلمية)
وفي الموسوعةالفقهية:
مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَل لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً…..وَاخْتِلاَفُ الْوَعِيدَيْنِ: الْكُفْرِ وَعَدَمِ قَبُول الصَّلاَةِ، بِاخْتِلاَفٍ حَالَيْ مَنْ أَتَى الْكَاهِنَ أَوِ الْعَرَّافَ، فَمَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا وَصَدَّقَهُمَا فِي قَوْلِهِمَا يَكْفُرُ، لإِشْرَاكِهِ الْغَيْرَ مَعَ اللَّهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ الَّذِي اسْتَأْثَرَ بِهِ اللَّهُ، وَمَنْ أَتَاهُمَا لِمُجَرَّدِ السُّؤَال وَلَمْ يُصَدِّقْهُمَا لَمْ يَكْفُرْ، بَل يُحْرَمُ مِنْ ثَوَابِ صَلاَتِهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا زَجْرًا (3) .وَهَذَا مَا يَدُل عَلَيْهِ حَدِيثُ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا بِلَفْظِ: مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُول فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أُنْزِل عَلَى مُحَمَّدٍ، وَمَنْ أَتَاهُ غَيْرَ مُصَدِّقٍ لَهُ لَمْ تُقْبَل صَلاَتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.
(الْحُكْمُ التَّكْلِيفِيُّ،ص:34،ج:30،ط: دارالسلاسل )
وفي المبسوط:
حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ «إذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ بِزَوْجٍ آخَرَ لَمْ تَحِلَّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهِ وَيَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا»
(كتاب الطلاق،ص:9،ج:6،ط: دار المعرفة)
 وفي اختلاف الائمة:
وَاتَّفَقُوا على أَن الطَّلَاق الثَّلَاث بِكَلِمَة وَاحِدَة أَو كَلِمَات فِي حَالَة وَاحِدَة أَو فِي طهر وَاحِد لم يَخْتَلِفُوا فِيهِ
(كتاب الطلاق،ص:168،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)
وفي البناية:
(ويجوز تزوج الكتابيات) ش: جمع كتابية، والذكر كتابي، وهو الذي يؤمن بنبي ويقر بكتاب، ولا خلاف للأئمة الأربعة في جواز نكاح الكتابية الحرة،…. (لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ}: أي الكتابيات من أحصنت إذا عفت.
 (تزوج الكتابيات والمجوسيات والصابئات،ص:43،ج:5،ط: دار الكتب العلمية )
وفي الفقه الاسلامي:
وأما مانع الكفر: فاتفقوا على أنه لا يجوز للمسلم أن ينكح الوثنية، لقوله تعالى: {ولا تمسكوا بعصم الكوافر}واتفقوا على أنه يجوز أن ينكح الكتابيةالحرة
(وأما مانع الكفر،ص:6678،ج:9،ط: دار الفكر)
وفيه ايضا:
ولكن لا تجب الطاعة عند ظهور معصية تتنافى مع تعاليم الإسلام القطعية الثابتة، لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا طاعة لأحد في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف»
(حق الطاعة،ص:6191،ج:8،ط: دار الفكر)
وفيه ايضا:
«أيما امرأة سألت زوجها الطلاق في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»
(حكمةتشريع الطلاق،ص:6875ج:9،ط:دارالفكر)
وفي رد المحتار:
قال أبو حنيفة الساحر إذا أقر بسحره أو ثبت بالبينة يقتل ولا يستتاب منه والمسلم والذمي والحر والعبد فيه سواء 
(مطلب في الساحر،ص:240،ج:4،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 16 Aug 2026