نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ قرض کو بطور رہن اسی قرض خواہ (یعنی جس پر قرض تھا اسی )کے پاس رکھنا فقہ حنفی کی رو سے درست نہیں ؛اس لیے کہ مرھونہ چیز پر مرتھن کا قبضہ ضروری ہوتا ہے،جبکہ دین میں فی الوقت قبضہ کرنا ثابت نہیں ہوتا ،لہذا صورت مسئولہ میں خالد کا عمر پرجو دین ہے اس کو عمر کے پاس بطور رہن رکھوانا درست نہیں ۔
كمافي احکام القرآن للجصاص:
وَاخْتُلِفَ فِي رَهْنِ الدَّيْنِ، فَقَالَ سَائِرُ الْفُقَهَاءِ: "لَا يَصِحُّ رَهْنُ الدَّيْنِ بِحَالٍ". وَقَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ فِي قِيَاسِ قَوْلِهِ: إذَا كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَبِعْته بَيْعًا وَارْتَهَنْت مِنْهُ الدَّيْنَ الَّذِي لَهُ عَلَيْهِ فَهُوَ جَائِزٌ، وَهُوَ أَقْوَى مِنْ أَنْ يَرْتَهِنَ دَيْنًا عَلَى غَيْرِهِ لِأَنَّهُ جائِزٌ لِمَا عَلَيْهِ قَالَ: "وَيَجُوزُ فِي قَوْلِ مَالِكٍ أَنْ يَرْهَنَ الرَّجُلُ الدَّيْنَ الَّذِي يَكُونُ لَهُ عَلَى الرَّجُلِ وَيَبْتَاعَ مِنْ رَجُلٍ بَيْعًا وَيُرْهَنَ مِنْهُ الدَّيْنَ الَّذِي يَكُونُ لَهُ عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ وَيَقْبِضَ ذَلِكَ الْحَقَّ لَهُ وَيَشْهَدَ لَهُ". وَهَذَا قَوْلٌ لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ سِوَاهُ; وَهُوَ فَاسِدٌ أَيْضًا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ} وَقَبْضُ الدَّيْنِ لَا يَصِحُّ مَا دَامَ دَيْنًا لَا إذَا كَانَ عَلَيْهِ وَلَا إذَا كَانَ عَلَى غَيْرِهِ لِأَنَّ الدَّيْنَ هُوَ حَقٌّ لَا يَصِحُّ فِيهِ قَبْضٌ وَإِنَّمَا يَتَأَتَّى الْقَبْضُ فِي الْأَعْيَانِ.
(مطلب الرهن المتنجس،ص:636،ج:1،ط: دار الكتب العلمية)
وفي رد المحتار:
قَوْلُهُ وَصَارَ ثَمَنُهُ رَهْنًا) أَيْ سَوَاءٌ قَبَضَ الثَّمَنَ مِنْ الْمُشْتَرِي أَوْ لَا لِقِيَامِهِ مَقَامَ الْعَيْنِ وَالثَّمَنِ، وَإِنْ كَانَ دَيْنًا لَا يَصِحُّ رَهْنُهُ ابْتِدَاءً لَكِنَّهُ يَصِحُّ رَهْنُهُ بَقَاءً كَالْعَبْدِ الْمَرْهُونِ إذَا قُتِلَ تَكُونُ قِيمَتُهُ رَهْنًا بَقَاءً
(بَابُ التَّصَرُّفِ فِي الرَّهْنِ،ص:508،ج:6،ط:دارالفكر)
وفي دررالحكام في شرح مجلة الاحكام:
سُؤَالٌ : ثَمَنُ الْمَبِيعِ قَبْلَ الْقَبْضِ دَيْنٌ وَحَيْثُ إنَّ الدَّيْنَ مَعْدُومٌ فَلَا يَجُوزُ رَهْنُهُ .
الْجَوَابُ : وَإِنْ كَانَ رَهْنُ الدَّيْنِ غَيْرَ جَائِزٍ ابْتِدَاءً فَالرَّهْنُ فِي هَذَا بَقَاءٌ وَلِذَلِكَ جَازَ
(المادة،ص:156،ج:2،ط: دار الكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 16 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔