نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ اگر مذکورہ تعلیمی ادارے(کالج،یونیورسٹیاں وغیرہ) نےکورس کی ابتداء سے ہی یہ اعلان کیا ہوا تھا کہ کورس کی فیس کے ساتھ ساتھ ڈگری کی بھی فیس دینی ہوگی تو اس صورت میں ان کا ڈگری دیتے وقت چارجز وصول کرنا درست ہے؛کیونکہ عقد میں ایسی شرط لگانا جومقتضی عقد کے خلاف نہ ہو درست ہے اور چونکہ مذکورہ صورت میں بھی ڈگری پر چارجز کی شرط لگانا عقد کے خلاف نہیں ہے ،مزید یہ کہ آج کے دور میں یہ(ڈگری پر چارجز لینا) معروف و مشہور ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ جو بات معروف ہو جائے وہ شرط کے قائم مقام ہوتی ہے (چاہے اس کا ذکر عقد میں کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو )؛اس لیے اگر ڈگری پر چارجز کی شرط نہ بھی لگائی گئی ہو تب بھی اس پر چارجز لینا درست ہے ۔
كمافي تبيين الحقائق:
وَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «الْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إلَّا شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلَالًا» وَهَذِهِ الشُّرُوطُ تُحَرِّمُ الْحَلَالَ كَالتَّزَوُّجِ وَالْمُسَافَرَةِ بِهَا وَالتَّسَرِّي وَنَحْوِ ذَلِكَ فَكَانَتْ مَرْدُودَةً
(باب المهر،ص:149،ج:2،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفي الدر المختار:
حَاصِلُهُ أَنَّ الْمُقَرَّرَ فِي الْكُتُبِ مِنْ أَنَّ الْمَعْرُوفَ كَالْمَشْرُوطِ يُوجِبُ إلْحَاقَ مَا ذُكِرَ بِالْمَشْرُوطِ
(حط المهر،ص: 130،ج:3،ط:دارالفكر)
وفي الفتاوي الهندية:
وهو الشرط المخالف لمقتضى العقد الداخل في صلب العقد من البدل فإن لم يخالف مقتضى العقد جاز الشرط والعقد، وإن خالف مقتضى العقد لكنه لم يدخل في صلبه يبطل الشرط، ويبقى العقد صحيحا هكذا في البدائع.
(في تفسير الكتابة،ص:3،ج:5،ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 16 Aug 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔