سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-618 Fatwa no: 1448-618

ذھن میں طلاق کا خیال بار بار آنے پر طلاق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ذھن میں بار بار یہ آتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے،کیااس طرح طلاق ہو جاتی ہے؟
جواب :

طلاق کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال کرنا(یعنی زبان سے ادا کرنا)  ضروری ہے جو طلاق پر صراحتاًیا کنايةً دلالت کریں،لہذ ا صرف ذھن میں یہ خیال آنے سے کہ میں  نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے طلاق واقع نہیں ہو گی۔
الفتاوی التاتارخانية:
اما ركن الطلاق فهو هذه الفظة الصادرة من الزوج.
(الطلاق،۳۷۷/۴،اعزازية)
الدر المختار:
(هو)... (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق،..(قوله هو ما اشتمل على الطلاق) أي صريحا، مثل أنت طالق، أو كناية... (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس.
(الطلاق،۲۳۰/۳،دارالفکر)
الفتاوي الهندية:
يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا.... لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع
(فيمن يقع طلاقه،۳۵۳/۱،دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 16 Aug 2026